انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 499

انوار العلوم جلد 25 499 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات مشکل آیت آجاتی وہ اس پر غور نہیں کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر بعد میں پتہ لگ گیا کہ یہ آیت منسوخ ہے تو ساری محنت اکارت چلی جائے گی۔لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت بھی منسوخ نہیں اس لئے ہم ہر آیت پر غور کرتے ہیں اور اس کی صحیح تشریح تلاش کرنے میں ہمت نہیں ہارتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا ایمان بالقرآن روز بروز ترقی کرتا جاتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی پرانے بزرگ کا ذکر سنایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس بزرگ سے کسی نے درخواست کی کہ قرآن کریم کی تفسیر سنائیے۔تو وہ کہنے لگے یہ قرآن تو سارا ابو جہل کے لئے نازل ہوا ہے۔ابو بکڑ کے لئے نازل ہو تا تو اس کی ”ب“ ہی کافی تھی کیونکہ ب کے معنے ساتھ کے ہیں اور ابو بکر کے لئے یہ کافی تھا کہ انہیں کہہ دیا جاتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھی بن جائیں۔باقی ابو جہل نہیں مانتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سارا قرآن اس کے لئے نازل کیا ہے ورنہ ابو بکر کے لئے اتنے بڑے قرآن کی ضرورت نہیں تھی۔تو حقیقت یہی ہے کہ قرآن کریم کے معارف اور حقائق سکھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے۔آپ نے بتایا کہ قرآن کریم میں کوئی آیت منسوخ نہیں اور تم قرآن کے جتنے حصے پر عمل کرو گے اُتنے ہی تم خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاؤ گے اور عملی طور پر دیکھا جائے تو قرآن کریم کسی فلسفہ کی کتاب نہیں بلکہ یہ ایک آسمانی کتاب ہے۔اس کی ایک ایک آیت پر عمل کرو گے تو تم ولی اللہ بن جاؤ گے اور خد اتعالیٰ کی برکتیں تم پر نازل ہوں گی اور جب خدا تعالیٰ کی برکتیں تم پر نازل ہوں گی تو تمام آفات اور مصائب اپنی نظروں میں بیچ نظر آنے لگ جائیں گے۔گزشتہ تیرہ سو سال کے عرصہ میں جس نے بھی قرآن کریم پر سچے دل سے عمل کیا ہے اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ اس کے شامل حال رہی ہے اور مصائب اور مشکلات کے ہجوم میں وہ اس کی تائیدات کا مشاہدہ کر تا رہا ہے۔ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ان کی بیوی