انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 500

انوار العلوم جلد 25 500 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات ان کے ایک دوست کے پاس گئی جو خود بھی بڑے بزرگ اور عالم تھے اور کہنے لگی آپ اپنے دوست کو سمجھائیں وہ کوئی کام نہیں کرتے۔اس بزرگ نے کہا بہت اچھا میں ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں سمجھاؤں گا کہ وہ کوئی کام کریں۔چنانچہ وہ وہاں گئے اور کہنے لگے دیکھو بھائی! مجھے پتہ لگا ہے کہ آپ کوئی کام نہیں کرتے حالانکہ آپ عالم ہیں اور دوسرے لوگوں کو پڑھا کر بھی آپ اپنی روزی کما سکتے ہیں۔انہوں نے جواب میں کہا بھائی! میرے دل میں آپ کی بڑی قدر ہے لیکن مجھے افسوس ہوا کہ آپ نے ایسا مشورہ کیوں دیا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم کسی کی مہمان نوازی کورد نہ کرو اور میں تو خدا تعالیٰ کا مہمان ہوں پھر میں خدا تعالیٰ کی مہمان نوازی کو کیوں کر رڈ کروں۔اگر میں اس کی مہمان نوازی کو ر ڈ کروں تو وہ خفا ہو جائے گا۔دوسرے بزرگ بھی ہوشیار تھے انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان نوازی صرف تین دن کی ہوتی ہے۔اس کے بعد صدقہ ہوتا ہے۔14 آپ کو خدا تعالیٰ کے مہمان بنے ہیں سال ہو گئے ہیں پھر کیا ابھی مہمان نوازی ختم نہیں ہوئی ؟ وہ بھی ہوشیار تھے کہنے لگے کیا قرآن کریم نے نہیں فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہوتا ہے 12 گویا قرآن کریم کی رو سے تو میں تین ہزار سال تک خدا تعالیٰ کا مہمان رہوں گا اور اُسی کا دیا کھاؤں گا۔15 تو حقیقت یہی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے وہ اس کے لئے روزی کے مختلف رستے کھول دیتا ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس نے انسان کے اندر روحانیت پیدا کرنے کے لئے فرمایا ہے کہ تم میرے حضور دعائیں کیا کرو کیونکہ جب کوئی انسان عجز اور انکسار کے ساتھ دعائیں کرتا ہے تو اس کے دل میں محبت الہی بڑھتی ہے۔بیشک ظاہری گسب بھی ایک ضروری چیز ہے لیکن دعائیں بھی روحانیت پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔مومن گسب تو کرتا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ در حقیقت مجھے دیتا خدا تعالیٰ ہی ہے۔یہ کبھی نہیں سمجھتا کہ جو کچھ مجھے ملا ہے وہ میری محنت کا نتیجہ ملا ہے۔لیکن ایک مالدار کافر یہ سمجھتا ہے کہ مجھے جو کچھ ملا ہے میرے ذاتی علم اور ذہانت اور محنت کی وجہ سے ملا ہے۔چنانچہ