انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 496

انوار العلوم جلد 25 496 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات کے بعد ایک رنگ میں آپ کے نائب ہوں گے۔پس جوں جوں وہ امریکہ ، انگلستان اور دوسرے ممالک میں تبلیغ کریں گے اور اسلام بڑھے گا خلافت محمد یہ ظلی طور پر خد اتعالیٰ انہیں دیتا چلا جائے گا۔لیکن ان کی وہاں خلافت قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں مرکز میں بھی خلافت قائم ہو جو تمام احمدیوں کو اکٹھارکھے اور انہیں خرچ بھجوائے تاکہ وہ اپنی اپنی جگہ کام کر سکیں۔پھر جوں جوں چندے بڑھتے جائیں تبلیغ کے نظام کو وسیع کرتے چلے جائیں۔میں نے کل بتایا تھا عیسائی خلافت نے 52 لاکھ مبلغ تبلیغ کے لئے تیار کیا ہوا ہے اور اس کے مقابلہ میں ہماری طرف سے صرف سو ڈیڑھ سو مبلغ ہے۔جس دن مسیح محمدی کو 52 لاکھ مبلغ مل گئے اُس دن بھاگتے ہوئے عیسائیت کو رستہ نہیں ملے گا کیونکہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ دلائل اور براہین دئے ہیں جو عیسائیت کے پاس نہیں۔مثلاً لنڈن میں ایک جلسہ ہوا۔اس میں ہمارے مبلغوں نے تقاریر کیں اور بتایا کہ مسیح ناصری فوت ہو گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مسیح ناصری صلیب سے بیچ کر کشمیر کی طرف چلے گئے تھے اور وہیں انہوں نے وفات پائی ہے اور اب تک ان کی قبر سری نگر میں پائی جاتی ہے۔اس پر ایک پادری کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اگر مسیح فوت ہو گئے ہیں تو ہماری عیسائیت مر گئی۔آگے وہ کشمیر چلے گئے یا کسی اور جگہ اس کا کوئی سوال نہیں۔یہ تو ایک علمی سوال ہے جو اُٹھایا گیا ہے ان کا وفات پا جانا ہی عیسائیت کے ختم ہو جانے کے لئے کافی ہے۔کیونکہ ہم حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا مانتے ہیں اور اگر وہ مر گئے ہیں تو وہ خدانہ رہے اور اس طرح عیسائیت بھی باقی نہ رہی۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کو ایسے ایسے معرفت کے نکتے دیئے ہیں جن کا مقابلہ عیسائیت کے بس کی بات نہیں۔1300 سال سے مسلمان اس دھوکا میں مبتلا چلے آتے تھے کہ مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر ہیں اور اس کی وجہ سے عیسائیت کو مدد مل رہی تھی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کی وفات ثابت کر کے عیسائیت کو ختم کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں