انوارالعلوم (جلد 25) — Page 491
انوار العلوم جلد 25 491 مجلس انصار اللہ مرکز یہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات کے قریب اس نے رقم دے دی اور کہا میری خواہش ہے کہ آپ پر یس کا جلدی انتظام کریں تاکہ ہم عیسائیوں کو جواب دے سکیں کہ اگر تم نے ہمارا اخبار چھاپنے سے انکار کر دیا تھا تو اب ہمارے خدا نے بھی ہمیں اپنا پر لیس دے دیا ہے۔ جماعت کے دوسرے دوستوں نے بھی اس تحریک میں حصہ لیا ہے اور اس وقت تک 1800 پونڈ سے زیادہ رقم جمع ہو چکی ہے اور انگلینڈ میں ایک احمدی دوست کے ذریعہ پر یس کے لئے آرڈر دے دیا گیا ہے۔ یہ شخص جس کے پاس ہمارا مبلغ گیا کسی زمانہ میں احمدیت کا شدید مخالفہ مخالف ہوا کرتا تھا۔ اتنا سخت مخالف کہ ایک دفعہ کوئی احمدی اس کے ساتھ دریا کے کنارے جا رہا تھا کہ اس احمدی نے اسے تبلیغ شروع کر دی۔ وہ دریا کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ دیکھو یہ دریا ادھر سے اُدھر بہہ رہا ہے اگر یہ دریا یک دم اپنا رُخ بدل لے اور نیچے سے اوپر کی طرف الٹا بہنا شروع کر دے تو یہ ممکن ہے لیکن میرا احمدی ہو نانا ممکن ہے۔ مگر کچھ دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ کوئی بڑا عالم فاضل نہیں بلکہ ایک لوکل افریقن احمدی اس سے ملا اور چند دن اس سے باتیں کیں تو وہ احمدی ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی مدد کی اور اس کی مالی حالت پہلے سے بہت اچھی ہو گئی۔ اب دیکھ لو ان لوگوں کے اندر جو اسلام اور احمدیت کے لئے غیرت پیدا ہوئی ہے وہ محض احمدیت کی برکت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ دنیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الزام لگاتی تھی کہ آپ عیسائیت کے ایجنٹ ہیں مگر خدا تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ آپ عیسائیت کے ایجنٹ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ایجنٹ ہیں۔ اگر آپ مخالفوں کے قول کے مطابق عیسائیت کے ایجنٹ تھے تو عیسائیوں کو مسلمان بنانے کے کیا معنی؟ اگر آپ عیسائیوں کے ایجنٹ ہوتے تو آپ مسلمانوں کو عیسائی بناتے نہ کہ عیسائیوں کو مسلمان۔ کیونکہ کوئی شخص اپنے دشمن کی تائید کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ جو شخص عیسائیت کی جڑوں پر تبر رکھتا ہے عیسائی لوگ اس کی مدد کیوں کریں گے۔ حضرت مسیح ناصری سے بھی بالکل اسی طرح کا واقعہ ہوا تھا۔ آپ پر یہودیوں