انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 490

انوار العلوم جلد 25 490 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات چونکہ ہمارے پاس کوئی پریس نہیں تھا اس لئے عیسائیوں کے پر لیس میں وہ اخبار چھپنا شروع ہوا۔دو چار پر چوں تک تو وہ برداشت کرتے چلے گئے لیکن جب یہ سلسلہ آگے بڑھا تو پادریوں کا ایک وفد اُس پریس کے مالک کے پاس گیا اور انہوں نے کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اپنے پریس میں ایک احمدی اخبار شائع کر رہے ہو جس نے عیسائیوں کی جڑوں پر تبر رکھا ہوا ہے۔چنانچہ اسے غیرت آئی اور اس نے کہہ دیا کہ آئندہ میں تمہارا اخبار اپنے پریس میں نہیں چھاپوں گا کیونکہ پادری بُرا مناتے ہیں۔چنانچہ اخبار چھپنا بند ہو گیا۔تو عیسائیوں کو اس سے بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ہمیں جواب دینے کے علاوہ اپنے اخبار میں بھی ایک نوٹ لکھا کہ ہم نے تو احمدیوں کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے۔اب ہم دیکھیں گے کہ اسلام کا خدا ان کے لئے کیا سامان پیدا کرتا ہے۔یعنی پہلے ان کا اخبار ہمارے پریس میں چھپ جایا کرتا تھا اب چونکہ ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے پاس اپنا کوئی پریس نہیں اس لئے ہم دیکھیں گے کہ یہ جو مسیح کے مقابلہ میں اپنا خدا پیش کیا کرتے ہیں، اس کی کیا طاقت ہے۔اگر اس میں کوئی قدرت ہے تو وہ ان کے لئے خود سامان پیدا کرے۔وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ پڑھا تو میرے دل کو سخت تکلیف محسوس ہوئی۔میں نے اپنی جماعت کو تحریک کی کہ وہ چندہ کر کے اتنی رقم جمع کر دیں کہ ہم اپنا پر لیس خرید سکیں۔اس سلسلہ میں میں نے لاری کا ٹکٹ لیا اور پونے تین سو میل پر ایک احمدی کے پاس گیا تا کہ اسے تحریک کروں کہ وہ اس کام میں حصہ لے۔میں اُس کی طرف جارہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ ابھی اس کا گاؤں آٹھ میل پڑے تھا کہ وہ مجھے ایک دوسری لاری میں بیٹھا ہوا نظر آگیا اور اس نے بھی مجھے دیکھ لیا۔وہ مجھے دیکھتے ہی لاری سے اُتر پڑا اور کہنے لگا آپ کس طرح تشریف لائے ہیں؟ میں نے کہا اس طرح ایک عیسائی اخبار نے لکھا ہے کہ ہم نے تو ان کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے اگر مسیح کے مقابلہ میں ان کے خدا میں بھی کوئی طاقت ہے تو وہ کوئی معجزہ دکھا دے۔وہ کہنے لگا آپ یہیں بیٹھیں میں ابھی گاؤں سے ہو کر آتا ہوں۔چنانچہ وہ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہی اس نے پانچ سو پونڈ لا کر مجھے دے دیئے۔پانچ سو پونڈ وہ اس سے پہلے دے چکا تھا گویا تیرہ ہزار روپیہ