انوارالعلوم (جلد 25) — Page 478
انوار العلوم جلد 25 478 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات وہ جانتے ہیں کہ چاہے ہمارے ملک میں چند سو احمدی ہیں اگر وہ ایک ہاتھ پر جمع ہیں اگر انہوں نے آواز اٹھائی تو ان کی آواز صرف فلسطین میں ہی نہیں رہے گی بلکہ ان کی آواز شام میں بھی اٹھے گی، عراق میں بھی اٹھے گی ، مصر میں بھی اٹھے گی ، ہالینڈ میں بھی اٹھے گی، فرانس میں بھی اٹھے گی، سپین میں بھی اٹھے گی ، انگلستان میں بھی اٹھے گی، سکنڈے نیویا میں بھی اٹھے گی، سوئٹزر لینڈ میں بھی اٹھے گی، امریکہ میں بھی اٹھے گی، انڈو نیشیا میں بھی اٹھے گی۔یہ لوگ تمام ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اگر ان سے بُرا لوک کیا گیا تو تمام ممالک میں اسرائیل بدنام ہو جائے گا اس لئے ان سے بگاڑ مفید نہیں ہو گا۔یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ ہمارے مبلغ کا اعزاز کرتے ہیں۔اسی طرح جب تقسیم ملک ہوئی تو ہمارے مبلغوں نے تمام ممالک میں ہندوستان کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔اُس وقت لنڈن میں چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ امام تھے انہیں پنڈت نہرو نے لکھا کہ آپ لوگوں نے تمام دنیا میں ہمیں اس قدر بد نام کر دیا ہے کہ ہم کسی ملک کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔اب دیکھ لو پنڈت نہرو باقی تمام مسلمانوں سے نہیں ڈرے انہیں ڈر محسوس ہو ا تو صرف احمدیوں سے اور اس کی وجہ محض ایک مقصد پر جمع ہونا تھی۔اور یہ طاقت اور قوت جماعت کو کس طرح نصیب ہوئی؟ یہ صرف خلافت ہی کی برکت تھی جس نے احمدیوں کو ایک نظام میں پرو دیا اور اس کے نتیجہ میں انہیں طاقت حاصل ہو گئی۔میرے سامنے اس وقت چودھری غلام حسین صاحب ے ہیں جو مخلص احمدی ہیں اور صحابی ہیں یہ اپنی آواز کو امریکہ کس طرح پہنچا سکتے ہیں، یہ اپنی آواز کو انگلینڈ کیسے پہنچاسکتے ہیں، یہ اپنی آواز کو فرانس، جرمنی اور سپین کیسے پہنچا سکتے ہیں، یہ بے شک جو شیلے احمدی ہیں مگر یہ اپنی آواز دوسرے ملک میں اپنے دوسرے احمدی بھائیوں کے ساتھ مل کر ہی پہنچا سکتے ہیں ورنہ نہیں۔اسی مل کر کام کرنے سے اسرائیل کو ڈر پید اہوا اور اسی مل کر کام کرنے سے ہی پاکستان کے مولوی ڈرے اور انہوں نے ملک کے ہر کونہ میں یہ جھوٹا پراپیگنڈ اشروع کر دیا کہ احمدیوں نے ملک کے سب کلیدی عہدے سنبھال لئے ہیں انہیں اقلیت قرار دیا جائے اور ان عہدوں سے انہیں ہٹا دیا جائے۔