انوارالعلوم (جلد 25) — Page 471
انوار العلوم جلد 25 471 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات کہلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے خاندان کی وجاہت کو قائم کرنا چاہیے۔حالانکہ حضرت خلیفہ اول کو جو عزت اور درجہ ملا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ملا ہے۔اب جو چیز آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ملی تھی وہ ان لوگوں کے نزدیک ان کے خاندان کی جائیداد بن گئی۔یہ وہی فقرہ ہے جو پرانے زمانہ میں ان لڑکوں کی والدہ نے مجھے کہا کہ پیغامی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خلافت تو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی تھی۔اگر آپ کی وفات کے بعد آپ کے کسی بیٹے کو خلیفہ بنالیا جاتا تو ہم اس کی بیعت کر لیتے مگر مرزا صاحب کا خلافت سے کیا تعلق تھا کہ آپ کے بیٹے کو خلیفہ بنالیا گیا۔اس وقت میری بھی جوانی تھی۔میں نے انہیں کہا کہ آپ کے لیے رستہ کھلا ہے، تانگے چلتے ہیں (اُن دنوں قادیان میں ریل نہیں آئی تھی ) آپ چاہیں تو لاہور چلی جائیں میں آپ کو نہیں روکتا۔وہاں جا کر آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ وہ آپ کی کیا امداد کرتے ہیں۔وہاں تو مولوی محمد علی صاحب کو بھی خلافت نہیں ملی۔انہیں صرف امارت ملی تھی اور امارت بھی ایسی کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہیں وصیت کرنی پڑی کہ فلاں فلاں شخص ان کے جنازے پر نہ آئے۔ان کی اپنی تحریر موجود ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مولوی صدرالدین صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب مصری اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب میرے خلاف پروپیگنڈا میں اپنی پوری قوت خرچ کر رہے ہیں اور انہوں نے تنکے کو پہاڑ بنا کر جماعت میں فتنہ پیدا کرنا شروع کیا ہوا ہے۔اور ان لوگوں نے مولوی محمد علی صاحب پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔یہاں تک کہ آپ نے احمدیت سے انکار کر دیا ہے اور انجمن کا مال غصب کر لیا ہے۔اب بتاؤ جب وہ شخص جو اس جماعت کا بانی تھا اسے یہ کہنا پڑا کہ جماعت کے بڑے بڑے آدمی مجھ پر الزام لگاتے ہیں اور مجھے مرتد اور جماعت کا مال غصب کرنے والا قرار دیتے ہیں تو اگر وہاں دودھ پینے والے چھو کرے چلے جاتے تو انہیں کیا ملتا۔زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا تھا کہ انہیں پانچ پانچ روپے کے وظیفے دے کر کسی سکول میں داخل کر دیا جاتا۔مگر ہم نے تو ان کی تعلیم پر بڑا روپیہ خرچ کیا اور اس قابل