انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 470

انوار العلوم جلد 25 470 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات ڈانواں ڈول ہونے لگے ہیں اور پیغامیوں سے چند روپے لے کر ایمان کو بیچنے لگے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض پر سلسلہ نے ہزار ہا روپے خرچ کئے ہیں۔میں پچھلے حسابات نکلوارہا ہوں اور میں نے دفتر والوں سے کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ صدر انجمن احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے اور حضرت خلیفة المسیح الاول کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو فوت ہوئے 48 سال ہو چکے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات پر 42 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فاصلہ زیادہ ہے اور پھر آپ کی اولاد بھی زیادہ ہے لیکن اس کے باوجو د میں نے حسابات نکلوائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے خاندان کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پر کم خرچ کیا ہے۔لیکن پھر بھی حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اولاد میں یہ لالچ پیدا ہوئی کہ خلافت بھی سنبھالو یہ ہمارے باپ کا حق تھا جو ہمیں ملنا چاہیے تھا۔چنانچہ سندھ سے ایک آدمی نے مجھے لکھا کہ یہاں میاں عبد المنان کے بھانجے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا ایک پر وردہ شخص بشیر احمد آیا اور اس نے کہا کہ خلافت تو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا مال تھا اور ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد کو ملنا چاہیے تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد نے اسے غصب کر لیا۔اب ہم سب نے مل کر یہ کوشش کرنی ہے کہ اس حق کو دوبارہ حاصل کریں۔پھر میں نے میاں عبد السلام صاحب کی پہلی بیوی کے سوتیلے بھائی کا ایک خط پڑھا جس میں اس نے اپنے سوتیلے ماموں کو لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ مشرقی بنگال کی جماعت نے ایک ریزولیوشن پاس کر کے اس فتنہ سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ہمیں تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ہمارے لئے تو موقع تھا کہ ہم کوشش کر کے اپنے خاندان کی وجاہت کو دوبارہ قائم کرتے۔یہ ویسی ہی نا معقول حرکت ہے جیسی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر لاہور کے بعض مخالفین نے کی تھی۔انہوں نے آپ کے نقلی جنازے نکالے اور آپ کی وفات پر خوشی کے شادیانے بجائے۔وہ تو دشمن تھے لیکن یہ لوگ احمدی