انوارالعلوم (جلد 25) — Page 466
انوار العلوم جلد 25 466 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات امانت تم میں چھوڑ رہا ہوں۔میں آپ سب کو اس کی حفاظت کی نصیحت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگر آپ سب کو اس کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنی جانیں بھی دینی پڑیں تو آپ اس سے دریغ نہیں کریں گے اور میری اس آخری وصیت کو یا درکھیں گے مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کے اندر ایمان موجود ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ سب کو محبت ہے اس لئے تم ضرور آپ کے وجود کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قربانی کرو گے اور اس کے لئے اپنی جانوں کی بھی پروا نہیں کرو گے۔اب دیکھو ایک شخص مر رہا ہے اسے اپنی زندگی کے متعلق یقین نہیں۔وہ مرتے وقت اپنے بیوی بچوں کو سلام نہیں بھیجتا انہیں کوئی نصیحت نہیں کرتا بلکہ وہ اگر کوئی پیغام بھیجتا ہے تو یہی کہ اے میری قوم کے لو گو ! تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں کو تاہی نہ کرنا۔ہم جب تک زندہ رہے اس فرض کو نبھاتے رہے اب آپ کی حفاظت آپ لوگوں کے ذمہ ہے۔آپ کو اس کے رستہ میں اپنی جانوں کی قربانی بھی پیش کرنی پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں۔میری تم سے یہی آخری خواہش ہے اور مرتے وقت میں تمہیں اس کی نصیحت کرتا ہوں۔یہ تھا وہ عشق و محبت جو صحابہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔پھر جب آپ بدر کی جنگ کے لئے مدینہ سے صحابہ سمیت باہر نکلے تو آپ نے نہ چاہا کہ کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف جنگ پر مجبور کیا جائے۔چنانچہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ وہ اس بارہ میں آپ کو مشورہ دیں کہ فوج کا مقابلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوا اور اس نے کہا یارسول اللہ ! اگر دشمن ہمارے گھروں پر چڑھ آیا ہے تو ہم اس سے ڈرتے نہیں ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں آپ ہر ایک کا جواب سن کر یہی فرماتے چلے جاتے کہ مجھے اور مشورہ دو مجھے اور مشورہ دو۔مدینہ کے لوگ اس وقت تک خاموش تھے اس لئے کہ حملہ آور فوج مہاجرین کے رشتہ دار تھی وہ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کی بات سے مہاجرین کا دل دُکھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری ย