انوارالعلوم (جلد 25) — Page 23
انوار العلوم جلد 25 23 عالم روحانی کے دفاتر سیر روحانی (8) "1938ء کے سفر حیدر آباد اور دہلی میں میں نے جو تاریخی مقامات دیکھے اُن میں مسلمان بادشاہوں کے دفاتر بھی شامل تھے مجھے بعض عمارتیں دکھائی گئیں اور کہا گیا کہ یہ قلعہ کے شاہی دفاتر ہیں۔دنیوی دفاتر کا نظام اور اُس کی غرض و غایت این دفاتر پر ایک سیکرٹری اور وزیر مقرر ہو تا تھا۔باہر کے تمام صوبیدار اور ان کے ماتحت افسر اور قاضی وغیرہ بادشاہ کے پاس اپنی رپورٹیں بھجواتے تھے اور اس دفتر میں اُن کا ریکارڈر کھا جاتا تھا۔چنانچہ بادشاہ کو جب ضرورت پیش آتی تھی وہ ریکارڈ اُس کے سامنے پیش کیا جاتا تھا اور وہ اُن سے فائدہ اُٹھا کر اپنے احکام جاری کر تا تھا۔مثلاً جس قدر بڑے بڑے چور، ڈاکو اور فریبی تھے اُن کے متعلق ڈائریاں جاتی تھیں کہ فلاں شخص مشہور چور ہے، فلاں شخص مشہور ڈاکو ہے، فلاں شخص مشہور مفسد ہے ، فلاں شخص بڑا خائن ہے ، فلاں شخص بڑا جعلساز ہے، اور جب اُن کو پکڑا جاتا تھا تو ان ڈائریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بادشاہ اُن کے متعلق کوئی فیصلہ کرتا تھا اور وہ ڈائریاں وہاں ریکارڈ کے طور پر رکھی جاتی تھیں۔اسی طرح جب وہاں سے نیچے احکام جاری ہوتے تھے کہ مثلاً فلاں ڈاکو کی مزید نگرانی کرو اور اُس کے متعلق مزید ثبوت بہم پہنچاؤ یا اس کو فلاں سزا دے دو یا کسی کے اچھے کام کی ڈائری آئی تو محکم گیا کہ اس کی حوصلہ افزائی کرو یا اس کو فلاں انعام دے دو تو یہ ریکارڈ بھی وہاں رکھے جاتے تھے اور ان میں یہ درج کیا جاتا تھا کہ فلاں فلاں کے نام یہ حکم نافذ کیا گیا ہے۔رعایا کی سزاؤں اور ترقیات کے احکام کا اندراج غرض ان دفاتر میں لوگوں کے اعمالنا مے ہوتے تھے ان اعمالناموں پر بادشاہ جو کارروائی کرتا تھا وہ ریکارڈ ہوتی تھی، جو