انوارالعلوم (جلد 25) — Page 436
انوار العلوم جلد 25 436 قرون اولیٰ کی مسلمان خو سچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔کیا ایسے انسان کو خدا تعالیٰ کسی ابتلاء میں ڈال سکتا ہے ؟ اس نے اگر آپ پر کلام نازل کیا ہے تو اس لئے نہیں کہ آپ کو کسی دُکھ میں ڈالے بلکہ اس لئے نازل کیا ہے کہ وہ آپ کی عزت بڑھائے۔پھر سب سے پہلے جو آپ کے دعویٰ پر ایمان لائیں وہ حضرت خدیجہ ہی تھیں۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے والی بھی ایک عورت ہی تھی۔مؤرخین نے اس بات پر بڑی بحث کی ہے کہ سب سے پہلے کون مسلمان ہوا۔بعض کہا ہے کہ سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ تھیں بعض نے حضرت ابو بکر کو پہلا مسلمان قرار دیا ہے اور شیعہ حضرت علیؓ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے ایمان لائے۔محققین نے لکھا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ ایمان لائیں۔جواں سال مردوں میں سے حضرت ابو بکر سب سے پہلے ایمان لائے۔بچوں میں سے حضرت علی کو سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی اور غلاموں میں سے حضرت زید پہلے ایمان لائے۔بہر حال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں پہلا مالی بوجھ اُٹھانے والی ایک عورت ہی تھی جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر خدمت کی کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ان کی خدمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کی محبت وفات کے بعد بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جوش مارتی رہی۔جب بھی کوئی بات ہوتی آپ فرماتے خدیجہ نے یوں کہا تھا، خدیجہ یوں کیا کرتی تھی۔اور اس کی وجہ سے آپ کی نوجوان بیویاں چڑ جایا کرتی تھیں مثلاً حضرت عائشہ جوان تھیں اور پھر آپ کی خدمت بھی کرتی تھیں۔جب بات بات پر آپ حضرت خدیجہ کا ذکر فرماتے تو وہ بعض دفعہ چڑ جایا کرتیں۔ایک دفعہ حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہو گیا ہے ! خدیجہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو جوان اور خدمت کرنے والی بیویاں دی ہیں مگر پھر بھی آپ ہر وقت اُسی بُڑھیا کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما ی عائشہ الجھے معلوم نہیں خدیجہ نے میرا ساتھ کس وفاداری کے ساتھ دیا تھا۔ہر مصیبت میں اس نے میر اساتھ دیا اور ہر مشکل