انوارالعلوم (جلد 25) — Page 429
انوار العلوم جلد 25 429 قرون اولیٰ کی مسلمان خو بھاگے۔پاس ہی ایک چھوٹا سا دریا تھا، گھوڑے اُس میں کودے اور عرب چونکہ تیرنا نہیں جانتے تھے اس لئے سینکڑوں مسلمان ڈوب کر مر گئے۔اس لئے اُس سال کو مصیبت کا سال کہتے ہیں۔بہر حال وہ مسلمان عرب سردار کمرہ میں قید تھا۔جب مسلمان سپاہی جنگ سے واپس آتے اور اس کے کمرہ کے قریب بیٹھ کر یہ ذکر کرتے کہ جنگ میں مسلمانوں کا بڑا نقصان ہوا ہے تو وہ کڑھتا اور اس بات پر اظہار افسوس کرتا کہ وہ اس موقع پر جنگ میں حصہ نہیں لے سکا۔بے شک اس میں یہ کمزوری تھی کہ اُس نے شراب پی لی لیکن وہ تھا بڑا بہادر ، اس کے اندر جوش پایا جاتا تھا۔جنگ میں مسلمانوں کے نقصانات کا ذکر سُن کر وہ کمرہ میں اس طرح ٹہلنے لگ جاتا جیسے پنجرہ میں شیر ٹہلتا ہے۔ٹہلتے ٹہلتے وہ شعر پڑھتا جن کا مطلب یہ تھا کہ آج ہی موقع تھا کہ تو اسلام کو بچاتا اور اپنی بہادری کے جو ہر دکھاتا مگر تُو قید ہے۔حضرت سعد کی بیوی بڑی بہادر عورت تھیں وہ ایک دن اس کے کمرہ کے پاس سے گزریں تو انہوں نے یہ شعر سُن لئے۔انہوں نے دیکھا کہ وہاں پہرہ نہیں ہے وہ دروازہ کے پاس گئیں اور اُس قیدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔تجھے پتہ ہے کہ سعد نے تجھے قید کیا ہوا ہے، اگر اُسے پتہ لگ گیا کہ میں نے تجھے قید سے آزاد کر دیا ہے تو مجھے چھوڑے گا نہیں۔لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ میں تجھے قید سے آزاد کر دوں تاکہ تو اپنی خواہش کے مطابق اسلام کے کام آسکے۔اُس نے کہا آپ جب لڑائی ہو مجھے چھوڑ دیا کریں میں وعدہ کرتا ہوں کہ لڑائی کے بعد میں فوراً واپس آکر اس کمرہ میں داخل ہو جایا کروں گا۔اُس عورت کے دل میں بھی اسلام کا درد تھا اور اس کی حفاظت کے لئے جوش پایا جاتا تھا۔اس لئے اُس نے اس شخص کو قید سے نکال دیا۔چنانچہ وہ لڑائی میں شامل ہوا اور ایسی بے جگری سے لڑا کہ اس کی بہادری کی وجہ سے اسلامی لشکر بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھ گیا۔سعد نے اُسے پہچان لیا اور بعد میں کہا کہ آج کی لڑائی میں وہ شخص موجود تھا جسے میں نے شراب پینے کی وجہ سے قید کیا ہوا تھا گو اُس نے چہرے پر نقاب ڈالی ہوئی تھی مگر میں اس کے حملہ کے اند از اور قد کو پہچانتا ہوں میں اُس شخص کو تلاش کروں گا