انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 421

انوار العلوم جلد 25 421 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات ہو جایا کریں گے۔پھر تم یہ جلسے قیامت تک کرتے چلے جاؤ تا جماعت میں خلافت کا ادب اور اس کی اہمیت قائم رہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت 1900 سال سے برابر قائم ہے۔حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو درجہ میں ان سے بڑے ہیں خدا کرے ان کی خلافت دس ہزار سال تک قائم رہے۔مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم سال میں ایک دن اس غرض کے لئے خاص طور پر منانے کی کوشش کرو۔میں مرکز کو بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ بھی ہر سال سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں کی طرح خلافت ڈے منایا کرے اور ہر سال یہ بتایا کرے کہ جلسہ میں ان مضامین پر تقاریر کی جائیں۔الفضل۔مضامین پڑھ کر نوجوانوں کو بتایا جائے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے خلافت احمدیہ کی تائید میں کیا کچھ فرمایا ہے اور پیغامیوں نے اس کے رد میں کیا کچھ لکھا ہے۔اسی طرح وہ رو یاد کشوف بیان کئے جایا کریں جو وقت سے پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے دکھائے اور جن کو پورا کر کے خدا تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ اس کی برکات آب بھی خلافت سے وابستہ ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے مری میں ایک خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا تم درود کثرت سے پڑھا کرو، تسبیح کثرت سے کیا کرو، دعائیں کثرت سے کیا کرو تا خدا تمہیں رویا اور کشوف دکھائے۔پرانے احمدی جنہیں رویا کشوف ہوتے تھے اب کم ہو رہے ہیں۔میں نے دیکھا تھا کہ خطبہ کے تھوڑے ہی دن بعد مجھے خطوط آنے شروع ہوئے کہ آپ کی ہدایت کے مطابق ہم نے درود پڑھنا شروع کیا، تسبیح پڑھنی شروع کی اور دعاؤں پر زور دیا تو ہمیں خد اتعالیٰ نے رویا و کشوف سے نوازا۔اُن دنوں ڈاک میں اکثر چٹھیاں اس مضمون کی آیا کرتی تھیں اور انہیں پڑھ کر لطف آیا کرتا تھا۔اب ان چٹھیوں کا سلسلہ کم ہو گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ درود پڑھنے، تسبیح کرنے اور دعائیں کرنے کی عادت پھر کم ہو گئی ہے۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ سے بات کرنا معمولی آمر نہیں۔خدا تعالیٰ سے بات کرنا بڑے ایمان کی بات ہے اگر کہیں صدر پاکستان سکندر مرزا آجائیں اور تمہیں پتہ لگ جائے کہ تم میں سے ہر ایک کو ان سے ملاقات کا موقع مل جائے گا تو تمہیں کتنی خوشی ہو