انوارالعلوم (جلد 25) — Page 420
انوار العلوم جلد 25 420 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ایسے عظیم الشان باپ کی اولاد ایک مُردہ مچھر سے بھی حقیر چیز پر آگری۔پھر دیکھو حضرت خلیفتہ المسیح الاول تو اس شان کے انسان تھے کہ وہ اپنا عظیم الشان مکان چھوڑ کر قادیان آگئے لیکن آپ کے پوتے کہتے ہیں کہ قادیان میں ہمارے دادا کی بڑی جائیداد تھی جو ساری کی ساری مرزا صاحب کی اولاد نے سنبھال لی ہے۔حالانکہ جماعت کے لاکھوں آدمی قادیان میں جاتے رہے ہیں اور ہزاروں وہاں رہے ہیں۔آب بھی کئی لوگ قادیان گئے ہیں انہیں پتہ ہے کہ وہاں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا صرف ایک کچا مکان تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی بڑی جائیداد تھی مگر وہ جائیداد مادی نہیں بلکہ روحانی تھی جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر احمدی کے دل میں آپ کا ادب واحترام پایا جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اگر آپ کی اولا د خلافت کے مقابلہ میں کھڑی ہو گی تو ہر مخلص احمدی انہیں نفرت سے پرے پھینک دے گا اور ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں کرے گا۔آخر میں خدام کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خلافت کی برکات کو یاد رکھیں۔اور کسی چیز کو یاد رکھنے کے لئے پرانی قوموں کا یہ دستور ہے کہ وہ سال میں اس کے لئے خاص طور پر ایک دن مناتی ہیں۔مثلاً شیعوں کو دیکھ لو وہ سال میں ایک دفعہ تعزیہ نکالتے ہیں تا قوم کو شہادتِ حسین کا واقعہ یادر ہے۔اسی طرح میں بھی خدام کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سال میں ایک دن خلافت ڈے کے طور پر منایا کریں۔اس میں وہ خلافت کے قیام پر خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کریں اور اپنی پرانی تاریخ کو دہرایا کریں۔پرانے اخبارات کا ملنا تو مشکل ہے لیکن الفضل نے پچھلے دنوں ساری تاریخ کو از سر نو بیان کر دیا ہے۔اس میں وہ گالیاں بھی آگئی ہیں جو پیغامی لوگ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو دیا کرتے تھے۔اور خلافت کی تائید میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے جو دعوے کئے ہیں وہ بھی نقل کر دیئے گئے ہیں۔تم اس موقع پر اخبارات سے یہ حوالے پڑھ کر سناؤ۔اگر سال میں ایک دفعہ خلافت ڈے منالیا جایا کرے تو ہر سال چھوٹی عمر کے بچوں کو پرانے واقعات یاد