انوارالعلوم (جلد 25) — Page 419
انوار العلوم جلد 25 419 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات نے فلاں بات سنی ہے۔میر اول تو نہیں مانتا لیکن چونکہ یہ بات ایک معتبر شخص نے بیان کی ہے اس لئے میں اس کا ذکر آپ سے کر رہا ہوں۔کیا یہ بات درست ہے کہ آپ نے ایک شادی شدہ عورت کا ایک اور مرد سے نکاح کر دیا ہے ؟ وہ کہنے لگا مولوی صاحب! تحقیقات سے پہلے بات کرنی درست نہیں ہوتی۔آپ پہلے مجھ سے پوچھ تو لیں کہ کیا بات ہوئی۔میں نے کہا اسی لئے تو میں نے اس بات کا آپ سے ذکر کیا ہے۔اس پر وہ کہنے لگا بے شک یہ درست ہے کہ میں نے ایک شادی شدہ عورت کا دوسری جگہ نکاح پڑھ دیا ہے لیکن مولوی صاحب! جب انہوں نے میرے ہاتھ پر چڑیا جتناروپیہ رکھ دیا تو پھر میں کیا کرتا۔پس اگر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی اولاد کو حکومت پاکستان یہ لالچ دے دیتی کہ مشرقی پاکستان یا مغربی پاکستان تمہیں دے دیا جائے گا تو ہم سمجھ لیتے کہ یہ مثال ان پر صادق آجاتی ہے۔جس طرح اس مولوی نے روپیہ دیکھ کر خلافِ شریعت نکاح پر نکاح پڑھ دیا تھا انہوں نے بھی لالچ کی وجہ سے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔مگر یہاں تو چڑیا چھوڑ انہیں کسی نے مُردہ مچھر بھی نہیں دیا۔حالانکہ یہ اولاد اس عظیم الشان باپ کی ہے جو اس قدر حوصلہ کا مالک تھا کہ ایک دفعہ جب آپ قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے کہ اگر آپ اپنے وطن گئے تو اپنی عزت کھو بیٹھیں گے۔اس پر آپ نے وطن واپس جانے کا نام تک نہ لیا۔اُس وقت آپ اپنے وطن بھیرہ میں ایک شاندار مکان بنارہے تھے۔جب میں بھیرہ گیا تو میں نے بھی یہ مکان دیکھا تھا۔اس میں آپ ایک شاندار ہال بنوار ہے تھے تاکہ اس میں بیٹھ کر درس دیں اور مطلب بھی کیا کریں۔موجودہ زمانہ کے لحاظ سے تو وہ مکان زیادہ حیثیت کا نہ تھا لیکن جس زمانہ میں حضرت خلیفہ المسیح الاول نے یہ قربانی کی تھی اُس وقت جماعت کے پاس زیادہ مال نہیں تھا۔اُس وقت اس جیسا مکان بنانا بھی ہر شخص کا کام نہیں تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے بعد آپ نے واپس جا کر اس مکان کو دیکھا تک نہیں۔بعض دوستوں نے کہا بھی کہ آپ ایک دفعہ جاکر مکان تو دیکھ آئیں لیکن آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ دیا ہے۔اب اسے