انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 412

انوار العلوم جلد 25 412 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات پچھلے مہینہ میں ہی میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا کہ کوئی غیر مرئی وجود مجھے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو وقفہ وقفہ کے بعد جماعت میں فتنہ پیدا ہونے دیتا ہے تو اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ جماعت کس طرح آپ کے پیچھے پیچھے چلتی ہے۔یا جب آپ کسی خاص طرف مڑیں تو کس سرعت کے ساتھ آپ کے ساتھ مڑتی ہے۔یا جب آپ اپنی منزل مقصود کی طرف جائیں تو وہ کس طرح اسی منزل مقصود کو اختیار کر لیتی اب دیکھو یہ فتنہ بھی جماعت کے لئے ایک آزمائش تھی لیکن بعض لوگ یہ دیکھ کر ڈر گئے کہ اس میں حصہ لینے والے حضرت خلیفہ اول کے لڑکے ہیں۔اُنہوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی آپ کا انکار کیا تھا اور اس انکار کی وجہ سے وہ عذاب الہی سے بچ نہیں سکا۔پھر حضرت خلیفہ المسیح الاول کی اولاد کے اس فتنہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہمیں کس بات کا خوف ہے۔اگر وہ فتنہ میں ملوث ہیں تو خدا تعالیٰ ان کی کوئی پروا نہیں کرے گا۔شروع شروع میں جب فتنہ اٹھا تو چند دنوں تک بعض دوستوں کے گھبراہٹ کے خطوط آئے اور انہوں نے لکھا کہ ایک چھوٹی سی بات کو بڑا بنادیا گیا ہے۔اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے۔لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد ساری جماعت اپنے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ان لوگوں سے نفرت کرنے لگ گئی اور مجھے خطوط آنے شروع ہوئے کہ آپ کے اور بھی بہت سے کارنامے ہیں مگر اس بڑھاپے کی عمر میں اور ضعف کی حالت میں جو یہ کارنامہ آپ نے سر انجام دیا ہے یہ اپنی شان میں دوسرے کارناموں سے بڑھ گیا ہے۔آپ نے بڑی جرات اور ہمت کے ساتھ ان لوگوں کو ننگا کر دیا ہے جو بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور سلسلہ کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے۔اس طرح آپ نے جماعت کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچالیا ہے۔مری میں مجھے ایک غیر احمدی کرنیل ملے انہوں نے کہا کہ جو واقعات 1953ء میں احمدیوں پر گزرے تھے وہ اب پھر ان پر گزرنے والے ہیں۔اس لئے آپ ابھی سے