انوارالعلوم (جلد 25) — Page 404
انوار العلوم جلد 25 404 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد ہیں میں بیعت کے الفاظ بولتا جاتا ہوں اور آپ دُہراتے جائیں۔چنانچہ وہ دوست بیعت کے الفاظ بولتے گئے اور میں انہیں ڈ ہر ا تا گیا اور اس طرح میں نے بیعت لی گویا پہلے دن کی بیعت دراصل کسی اور کی تھی میں تو صرف بیعت کے الفاظ دُہراتا جاتا تھا بعد میں میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے۔غرض اِس وقت وہی حال ہوا جو اُس وقت ہوا تھا جب حضرت ابو بکر خلیفہ منتخب ہوئے تھے۔میں نے دیکھا کہ لوگ بیعت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔مولوی محمد علی صاحب ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا دوستو! غور کر لو اور میری ایک بات سن لو۔مجھے معلوم نہ ہوا کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا ہے کیونکہ اُس وقت بہت شور تھا بعد میں پتہ لگا کہ لوگوں نے انہیں کہا۔ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔چنانچہ وہ مجلس سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔اس کے بعد لوگ ہجوم کر کے بیعت کے لئے بڑھے اور ایک گھنٹہ کے اندر اندر جماعت کا شیر ازہ قائم ہو گیا۔اُس وقت جس طرح میرے ذہن میں خلافت کا کوئی خیال نہیں تھا۔اسی طرح یہ بھی خیال نہیں تھا کہ خلافت کے ساتھ ساتھ کونسی مشکلات مجھ پر ٹوٹ پڑیں گی۔بعد میں پتہ لگا کہ پانچ چھ سو روپے ماہوار تو سکول کے اساتذہ کی تنخواہ ہے اور پھر کئی سو کا قرضہ ہے لیکن خزانہ میں صرف 17 روپے ہیں۔گویا اُس مجلس سے نکلنے کے بعد محسوس ہوا کہ ایک بڑی مشکل ہمارے سامنے ہے۔جماعت کے سارے مالدار تو دوسری پارٹی کے ساتھ چلے گئے ہیں اور جماعت کی کوئی آمدنی نہیں پھر یہ کام کیسے چلیں گے۔لیکن بعد میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوئی تو بگڑی سنور گئی۔1914ء میں تو میرا یہ خیال تھا کہ خزانہ میں صرف 17 روپے ہیں اور اساتذہ کی تنخواہوں کے علاوہ کئی سو روپیہ کا قرضہ ہے جو دینا ہے۔لیکن 1920ء میں جماعت کی یہ حالت تھی کہ جب میں نے اعلان کیا کہ ہم برلن میں مسجد بنائیں گے اس کیلئے ایک لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے تو جماعتوں کی عورتوں نے ایک ماہ کے اندر اندر یہ روپیہ اکٹھا کر دیا۔انہوں نے اپنے زیور اتار اتار کر دے دیئے کہ انہیں بیچ کر روپیہ اکٹھا کر لیا جائے۔آج میں نے عورتوں کے اجتماع میں اس واقعہ کا ذکر