انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 403

انوار العلوم جلد 25 403 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات پیش کرنے شروع کئے۔حضرت عمررؓ فرماتے ہیں میں نے خیال کیا کہ حضرت ابو بکر کو تو بولنا نہیں آتا میں انصار کے سامنے تقریر کرو گا۔لیکن جب حضرت ابو بکر نے تقریر کی تو آپ نے وہ سارے دلائل بیان کر دیئے جو میرے ذہن میں تھے اور پھر اس سے بھی زیادہ دلائل بیان کئے۔میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ آج یہ بڑھا مجھے سے بڑھ گیا ہے آخر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ خود انصار میں سے بعض لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا حضرت ابو بکر جو کچھ فرمارہے ہیں وہ ٹھیک ہے مکہ والوں کے سوا عرب کسی اور کی اطاعت نہیں کریں گے۔پھر ایک انصاری نے جذباتی طور پر کہا اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں اپنا ایک رسول مبعوث فرمایا، اس کے اپنے رشتہ داروں نے اسے شہر سے نکال دیا تو ہم نے اُسے اپنے گھروں میں جگہ دی اور خد اتعالیٰ نے اس کے طفیل ہمیں عزت دی۔ہم مدینہ والے گمنام تھے، ذلیل تھے مگر اس رسول کی وجہ سے ہم معزز اور مشہور ہو گئے۔اب تم اس چیز کو جس نے ہمیں معزز بنایا کافی سمجھو اور زیادہ لالچ نہ کرو ایسا نہ ہو کہ ہمیں اس کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچے۔اُس وقت حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ دیکھو ! خلافت کو قائم کرنا ضروری ہے باقی تم جس کو چاہو خلیفہ بنالو مجھے خلیفہ بننے کی کوئی خواہش نہیں۔آپ نے فرمایا یہ ابو عبیدہ نہیں ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امین الامت کا خطاب عطا فرمایا ہے تم ان کی بیعت کر لو۔پھر عمر نہیں یہ اسلام کے لئے ایک ننگی تلوار ہیں تم ان کی بیعت کر لو۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ابو بکر ! اب باتیں ختم کیجئے ہاتھ بڑھائیے اور ہماری بیت لیجئے۔حضرت ابو بکڑ کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ نے جرات پیدا کر دی اور آپ نے بیعت لے لی۔بعینہ یہی واقعہ حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات کے بعد میرے ساتھ پیش آیا۔جب میں نے کہا میں اس قابل نہیں کہ خلیفہ بنوں نہ میری تعلیم ایسی ہے اور نہ تجربہ تو اُس وقت بارہ چودہ سو احمدی جو جمع تھے انہوں نے شور مچادیا کہ ہم آپ کے سوا اور کسی کی بیعت کرنا نہیں چاہتے۔مجھے اس وقت بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں تھے۔میں نے کہا مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں میں بیعت کیسے لوں۔اس پر ایک دوست کھڑے