انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 393

انوار العلوم جلد 25 393 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات صُدُورُهُمْ أكبر ان پر قیاس کر کے دیکھ لو کہ جو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ کیا ہے۔کہتے ہیں ایک چاول دیکھ کر ساری دیگ پہچانی جاسکتی ہے اسی طرح یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔مثلاً ایک منافق نے بقول اپنے بھائی کے کہا کہ خلیفہ اب بڑھا اور پاگل ہو گیا ہے اب انہیں دو تین معاون دے دینے چاہئیں۔اور ہمیں جو شہادت ملی ہے اس کے مطابق اس نے کہا کہ اب خلیفہ کو معزول کر دینا چاہئے۔اس فقرہ سے ہر عظمند سمجھ سکتا ہے کہ اس کے پیچھے بغض کا ایک سمندر موجزن تھا۔جس شخص کا اپنا باپ جب اُس نے بیعت کی تھی اس عمر سے زیادہ تھا جس عمر کو میں 42 سال کی خدمت کے بعد پہنچا ہوں۔وہ اگر کہتا ہے کہ خلیفہ بڑھا ہو گیا ہے اسے اب معزول کر دینا چاہئے تو یہ شدید بغض کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے ورنہ اس کے منہ سے یہ فقرہ نہ نکلتا۔شدید بغض انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔اگر اس میں ذرا بھی عقل ہوتی تو وہ سمجھ سکتا تھا کہ میں یہ فقرہ منہ سے نکال کر اپنے باپ کو گالی دے رہا ہوں۔جیسے انسان بعض اوقات غصہ میں آکر یا پاگل پن کی وجہ سے اپنے بیٹے کو حرام زادہ کہہ دیتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ وہ یہ لفظ کہہ کر اپنی بیوی کو اور اپنے آپ کو گالی دے رہا ہے۔اسی طرح اس نوجوان کی عقل ماری گئی اور اس نے وہ بات کہی جس کی وجہ سے اس کے باپ پر حملہ ہو تا تھا۔دنیا میں کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کو گالی نہیں دیتا۔ہاں بغض اور غصہ کی وجہ سے ایسا کر لیتا ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ وہ اپنے باپ کو گالی دے رہا ہے۔اس نوجوان کی مجھ سے کوئی لڑائی نہیں تھی اور نہ ہی میں اس کے سامنے موجود تھا کہ وہ غصہ میں آکر یہ بات کہہ دیتا۔ہاں اس کے دل میں بغض اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کی وجہ سے اس نے وہ بات کہی جس کی وجہ سے اس کے باپ پر بھی حملہ ہوتا تھا۔قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ کہ ان کے منہ سے بغض کی بعض باتیں نکلی ہیں ان سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وَمَا تُخْفِی صدورهم اكبر جو کچھ ان کے سینوں میں ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے۔کیونکہ ہر انسان کوشش کرتا ہے کہ اس کے دل کے بغض کا علم کسی اور کو نہ ہو۔اس لئے جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے جو ظاہر ہو چکا ہے۔