انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 389

انوار العلوم جلد 25 389 مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات کر رہے ہیں میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا حالانکہ اس نے ایک بے نام خط لکھا اور وہ خط جب ماہر فن کو دکھایا گیا اور اس کی ایک اور تحریر اس کے ساتھ بھیجی گئی جو اس سے لکھوائی گئی تھی تو اس ماہر فن نے کہا کہ یہ دونوں تحریریں اسی شخص کی ہیں۔ پس خالی عہد کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ اس کے ساتھ انسان ان باتوں کو بھی مد نظر نہ رکھے جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ نہ کی جائیں۔ عبد المنان کو ہی دیکھ لو جب وہ امریکہ سے واپس آیا تو میں نے مری میں خطبہ پڑھا اور اس میں میں نے وضاحت کر دی کہ اتنے امور ہیں وہ ان کی صفائی کر دے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ وہ یہاں تین ہفتے بیٹھا ر ہا لیکن اس کو اپنی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ ملی۔ صرف اتنا لکھ دیا کہ میں تو آپ کا وفادار ہوں۔ ہم نے کہا ہم نے تجھ سے وفاداری کا عہد کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ہمیں معلوم ہے کہ پیغامی تمہارے باپ کو غاصب کا خطاب دیتے تھے۔ وہ انہیں جماعت کا مال کھانے والا اور حرام حرام خور قرار دیتے تھے تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ میں ان پیغامیوں کو جانتا ہوں یہ میرے باپ کو گالیاں دیتے تھے یہ آپ کو غاصب اور منافق کہتے تھے۔ میں ان کو قطعی اور یقینی طور پر باطل پر سمجھتا ہوں۔ مگر اس بات کا اعلان کرنے کی اسے توفیق نہ ملی۔ پھر اس نے لکھا کہ میں تو خلافت حقہ کا قائل ہوں۔ اسے یہ جواب دیا گیا کہ اس کے تو پیغامی بھی قائل ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم خلافت حقہ کے قائل ہیں لیکن ان کے نزد یک خلافت حقہ اُس نبی کے بعد ہوتی ہے جو بادشاہ بھی ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بادشاہ بھی تھے اس لئے ان کے نزدیک آپ کے بعد خلافت حقہ جاری ہوئی اور حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی خلیفہ ہوئے لیکن مرزا صاحب چونکہ بادشاہ نہیں تھے اس لئے آپ کے بعد وہ خلافت تسلیم نہیں کرتے۔ پس یہ بات تو پیغامی بھی کہتے ہیں کہ وہ خلافت حقہ کے قائل ہیں۔ تم اگر واقعی جماعت احمدیہ میں خلافت حقہ کے قائل ہو تو پھر یہ کیوں نہیں لکھتے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کو تسلیم کرتا ہوں اور جو آپ کے بعد خلافت کے قائل نہیں انہیں لعنتی سمجھتا ہوں۔ پھر تم یہ کیوں نہیں لکھتے