انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 379

انوار العلوم جلد 25 379 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات گستاخی کی ہے۔انہوں نے ”پیغام صلح میں شائع کرایا۔یہ بیان ایسا تھا کہ جماعت کے بہت سے آدمیوں نے لکھا کہ اس بیان کا ہر فقرہ وہ ہے جس کے نیچے ہر پیغامی دستخط کر سکتا ہے۔اس لئے اس بیان کو جماعت نے قبول نہ کیا۔" اس دوران میں چودھری محمد حسین چیمہ ایڈووکیٹ نے ایک مضمون ”پیغام صلح میں لکھا جس میں یہ بھی لکھا گیا کہ مرزا محمود کی خلافت کی مخالفت کرنے والوں کو دلیری اور استقلال سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے اور ڈرنا نہیں چاہیئے۔ہمارا روپیہ اور ہماری تنظیم اور ہماری سٹیج ان کی تائید میں ہے۔مولوی عبد المنان اور مولوی عبد الوہاب نے اس مضمون کی بھی جو جماعت احمدیہ کی سخت ہتک کرنے والا تھا کوئی تردید نہ کی۔اس کے بعد مولوی عبد المنان نے بجائے اس کے کہ تمام ضروری تر دیدوں کے ساتھ معافی نامہ میرے پاس بھیجتے ایک بظاہر معافی نامہ لیکن در حقیقت اقرار مجرم سلسلہ احمدیہ کے شدید مخالف روزنامہ ”کوہستان“ میں چھپوا دیا۔جس کا ہیڈنگ یہ تھا کہ ”قادیانی خلافت سے دستبرداری“ یہ دوسرے لفظوں میں اقرار تھا اس بات کا کہ عبد المنان صاحب ” قادیانی خلافت کے امیدوار ہیں کیونکہ جو شخص امیدوار نہیں وہ دستبردار کس طرح ہو سکتا ہے۔مگر بہر حال یہ مضمون جیسا بھی تھا میرے پاس نہیں بھیجا گیا بلکہ ”کوہستان“ میں چھپوایا گیا۔اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ۔جس کا مطلب یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کو بدنام کرنے کے لئے ایک تدبیر نکالی جارہی ہے۔پس میں مولوی عبد المنان کو اس وجہ سے کہ پر شکوہ مجھے پیدا ہوئی تھی لیکن انہوں نے اس کے جواب میں ایک ملمع سازی کا مضمون ”کوہستان میں چھپوا دیا جو احمدیت کا دشمن ہے اور میرے پاس صحیح طور پر کوئی معافی نامہ نہیں بھجوایا، پس میں مولوی عبد المنان کو جو یا تو اپنا مضمون ”پیغام صلح “ میں چھپواتے ہیں جو جماعت مبائعین کا سخت دشمن اخبار ہے یا کوہستان“ میں چھپواتے ہیں جو سلسلہ احمدیہ کا شدید دشمن ہے۔اور پھر چودھری محمد حسین چیمہ کے شدید دل آزار مضمون کی تردید نہیں کرتے اور اپنی خاموشی سے اُس کی اِس دعوت کو منظور کرتے ہیں کہ شاباش ! خلافت ثانیہ کی مخالفت کرتے رہو ، ہمارا روپیہ اور ہمارا پلیٹ فارم اور ہماری تنظیم تمہارے ساتھ۔