انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 374

انوار العلوم جلد 25 374 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات شیخو پورہ کی معین گواہیاں موجود ہیں کہ انہوں نے خلافت کی امیدواری کا اظہار کر دیا اور یہ کہا کہ خلیفہ ثانی، ناصر احمد کو اپنا ولی عہد بنا رہے ہیں۔ان حالات کے بعد وہ تو بہ بھی ہیں اور ہمیں اُن کی توبہ کے الفاظ سے اتفاق بھی ہو تو بھی انہیں اس طرح ہر گز نہیں معاف کیا جاسکتا کہ آئندہ وہ کسی جماعت کے ممبر ہو سکیں یا جماعت کے کسی عہدہ پر فائز ہو سکیں۔اس وقت کہ عشاء کے بعد کا وقت ہے میجر عارف الزمان لاہور سے آئے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ میاں منان با قاعدہ مولوی صدر دین سے مل رہے ہیں اور ایک دن تو ملاقات رات کے دو بجے تک رہی اور لاہور کے کسی وکیل فضل علی غنی اور امیر احمد قدوائی سے قانونی مشورے لے رہے ہیں۔غالباً یہ امیر احمد قدوائی وہی ہے جس کی آپ نے ایک دفعہ میرے ساتھ دعوت کی تھی کیونکہ وہ بھی وکیل اور قدوائی کہلاتا تھا۔یہ حالات میری اوپر کی رائے کو اور بھی پکا کرتے ہیں۔رجسٹرات اور میاں عبد المنان کے دستخط ہمارے پاس موجود ہیں۔شیخ محمداحمد صاحب گو آپ کے پائے کے وکیل تو نہیں مگر بڑے پائے کے وکیل ہیں انہوں نے سب کاغذات دیکھے ہیں اور یہ قطعی رائے دی ہے کہ گو بعض معاملات میں انجمن کے بعض افسروں کی سہل انگاری کی وجہ سے وہ فوجداری مقدمہ سے تو بچ گئے ہیں مگر رجسٹرات میں اُن کے اپنے دستخطوں سے اتنا مواد موجود ہے کہ دنیا کے سامنے اُن کی امانت کو مخدوش کرنے کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔بعض واقعات میں کل کے خط میں لکھ چکا ہوں۔بہر حال میں نے آپ کو اس لیے وقت پر اطلاع دے دی ہے تا کہ آپ غلطی سے کوئی PROPOSAL بنا کر نہ بھجوا دیں اور پھر اس کے رڈ کرنے کی وجہ سے آپ کی دل شکنی نہ ہو۔بہر حال سلسلہ کے مفاد اور امانت اور دیانت کو حضرت خلیفہ اول کی اولاد پر مقدم رکھا جائے گا اور صرف اتنی رعایت اُن کے ساتھ ہو سکتی ہے کہ وہ دلیری کے ساتھ پیغام صلح کے افتراء کو ظاہر کریں اور اسی طرح اپنے دوستوں اور غیر احمدی اخباروں کے افترا کو۔تو جماعت سے اخراج میں نرمی کر دی جائے۔منان میں تو اتنا بھی ایمان نہیں پایا جاتا کہ وہ اجمیری کے اس جھوٹ کی تردید کرتا کہ میں نے کبھی وکلاء کے کمیشن مقرر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ اس نے اس بات کا