انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 369

انوار العلوم جلد 25 369 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات دعوت دی اور پتالگ جاتا ہے کہ یہ دعوت چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی سفارش پر ہوئی تھی نہ کہ ان کی عالمی شہرت کی وجہ سے۔جیسا کہ تھوڑے دنوں میں تحقیقی طور پر ثابت ہو جائے گا مولوی عبد المنان صاحب کی مسند احمد کی تبویب نہ کوئی نیا کارنامہ ہے نہ کوئی علمی تحقیق ہے۔یہ کام کوئی چالیس سال سے مسلمانوں میں ہو رہا ہے اور مصر اور ہندوستان کے علماء اس میں لگے ہوئے ہیں۔بلکہ بعض کتابوں سے پتا لگتا ہے کہ بعض لوگ اس کو مکمل بھی کر چکے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ محنت کا کام ہے جیسے ڈکشنری میں سے لفظ نکالنے کا کام محنت کا کام ہو تا ہے۔مگر علمی وسعت وسعتِ نظر کا کام نہیں۔مدرسہ احمدیہ کے بعض پرانے اساتذہ کہتے ہیں کہ جب مولوی عبد المنان صاحب سکول میں انجمن کے تنخواہ دار ملازم تھے تو خود بھی اپنا وقت اس کام پر صرف کرتے تھے اور بعض طلباء سے بھی مدد لیتے تھے وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔بہر حال کوئی نہ کوئی دوست کچھ دنوں تک اس مسئلہ پر تفصیلی اور مکمل روشنی ڈال دیں گے۔مصر کے ایک عالم نے اس کتاب کی تبویب کی چودہ جلدیں شائع کی ہیں جو کہتے ہیں کراچی اور لاہور میں مل سکتی ہیں گوشبہ ہے کہ ابھی کچھ جلدیں شائع ہونی باقی ہیں۔ان جلدوں میں سے بہت سی ہمارے جامعتہ المبشرین کی لائبریری میں موجود ہیں۔اور کچھ جلدیں قادیان کے زمانہ سے میری لائبریری میں موجود تھیں جو اب یہاں آگئی ہیں۔بے شک حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایسی کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی تھی۔یہ جلدیں غالباً مر زا ناصر احمد کی ولایت سے واپسی پر میں نے اُس کے ذریعہ سے مصر سے منگوائی تھیں۔اس خط سے اس شبہ کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے جو بعض دوستوں نے اپنے خطوں میں ظاہر کیا ہے جو یہ ہے کہ مولوی عبد المنان کو امریکہ بھجوا کر چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے فتنہ کا دروازہ کھولا اور اُن کے دوستوں کو جھوٹے پروپیگنڈا کا موقع دیا۔مگر جیسا کہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے خط سے ظاہر ہے انہوں نے موجودہ حالات کے علم سے پہلے یہ کوشش کی تھی اور اس خیال سے کی تھی کہ حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں میں سے ایک ہی بیٹے کو کچھ علمی شغف ہے وہ علمی مجالس میں آجائے تو اس طرح