انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 365

انوار العلوم جلد 25 365 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات وہ نادان جو کہتا ہے کہ گدی بن گئی ہے اُس کو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تو یہ جائز ہی نہیں سمجھتا کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو۔ہاں اگر خدا تعالیٰ چاہے مامور کر دے تو یہ الگ بات ہے اور حضرت عمر کی طرح میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہیئے“۔(صفحہ 22) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل کلمات تحریر فرمائے ہیں (خاکسار ابو العطاء جالندھری) " یعنی باپ کو بیٹے کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں کرنا چاہئے جس طرح حضرت عمرؓ نے منع فرمایا 22 کیونکہ جو پانچ آدمی انہوں نے خود نامز دکئے تھے نہ کہ جماعت نے اُن میں اُن کا بیٹا بھی تھا۔اس لئے آپ نے فرمایا اسے مشورہ میں شامل کرو خلیفہ مت بنانا۔پس معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک باپ اپنے بعد بیٹے کو خلیفہ نامزد نہیں کر سکتا۔مگر حضرت علی نے اس کے خلاف کیا اور اپنے بعد حضرت حسن کو خلیفہ نامزد کیا 23۔میرا رجحان حضرت علیؓ کی بجائے حضرت عمرؓ کے فیصلہ کی طرف ہے خود حضرت حسن بھی مجھ سے متفق نظر آتے ہیں کیونکہ انہوں نے بعد میں حضرت معاویہ کے حق میں دست بر داری دے دی۔اگر وہ یہ سمجھتے کہ باپ، بیٹے کو اپنے بعد خلیفہ بنا سکتا ہے تو کبھی دسہ بردار نہ ہوتے کیونکہ خلافت حقہ کا چھوڑنا ارشادِ نبوی کے مطابق منع ہے۔مگر حضرت علی نے بھی غلطی نہیں کی۔اُس وقت حالات نہایت نازک تھے۔کیونکہ خوارج نے بغاوت کی ہوئی تھی اور دوسری طرف معاویہ اپنے لشکروں سمیت کھڑے تھے۔انہوں نے ایک چھوٹی سی تبدیلی کو بڑے فساد پر ترجیح دی کیونکہ حضرت حسن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشگوئیاں موجود تھیں۔ممکن ہے حضرت علی نے اور احتیاطیں بھی کی ہوں جن سے جمہور مسلمانوں کے حق کو محفوظ کر دیا ہو۔گو وہ مجھے اس وقت یاد نہیں۔مرزا محمود احمد "8-9-1956 (الفضل 15 ستمبر 1956ء)