انوارالعلوم (جلد 25) — Page 359
انوار العلوم جلد 25 359 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات 31 اگست والے خطبہ میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ جن لوگوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ وہ ہیں جو علم روحانی اور تقویٰ رکھتے ہیں اور صاحب کشوف ہیں اور پھر بھی اس فتنہ میں شامل ہیں۔اور کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی شخص نہیں۔ایڈیٹر ”سفینہ“ نے جو مولوی عبد المنان عمر ایم اے کا نام لکھا ہے تو کس وجہ سے ؟ کیا وہ ان کی کوئی کشف بتا سکتا ہے جو انہوں نے کسی کتاب یا اخبار میں شائع کی ہو۔اور کچھ عرصہ کے بعد وہ پوری ہو گئی ہو۔ایم اے اور مولوی فاضل ہونا تو اس بات کی علامت نہیں کہ اُن کو علم روحانی اور تقویٰ حاصل ہے اور وہ صاحب کشف ہیں۔اگر ایم اے اور مولوی فاضل ہونا اس بات کی دلیل ہو تا تو حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ، اور حضرت علی کو تو جواب مل جاتا۔بلکہ عیسائی لوگ تو یہ بھی کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نعوذ باللہ ) صاحب کشف اور الہام نہیں تھے کیونکہ سفینہ کے ایڈیٹر کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق نہ وہ ایم اے تھے نہ مولوی فاضل۔یہی جواب علی محمد اجمیری کے متعلق ہے اور یہی جواب محمد صالح نور اور محمد حیات تاثیر کے متعلق ہے۔محمد صالح نور اور محمد حیات بے شک مولوی فاضل ہیں لیکن وہ دونوں مبایعین احمدیوں کے خرچ سے مولوی فاضل ہوئے ہیں اور پھر دونوں میں سے کسی کو صاحب کشف ہونے کا دعویٰ نہیں۔اگر ہے تو سفینہ کا ایڈیٹر ان کے کشف اور خواب شائع کرے جو انہوں نے دو تین سال پہلے اخبار یا کتابوں میں چھپوائے ہوں اور پھر پورے ہوئے ہوں۔اسی طرح مولوی علی محمد اجمیری کے بھی کشف شائع کریں۔باقی رہے ملک عبد الرحمن صاحب خادم تو وہ ان لوگوں کے مخالف ہیں ان کا نام میرے مخالفوں میں لکھنا محض شرارت ہے۔غرض مولوی محمد علی صاحب کا نام لکھنا جو اس فتنہ سے چار سال پہلے فوت ہو چکے تھے اور ملک عبد الرحمن صاحب خادم کا نام لکھنا جو میرے وفادار مرید ہیں اوّل درجہ کی بد دیانتی اور خباثت ہے۔اگر سفینہ کے ایڈیٹر کو سچائی کا کوئی بھی احساس ہے تو وہ یہ ثابت کرے کہ مولوی محمد علی صاحب اس فتنہ کے وقت زندہ تھے اور ملک عبد الرحمن صاحب خادم کا بیان شائع کرے کہ وہ میرے مخالف تھے۔اور مولوی عبد المنان اور مولوی اجمیری اور صالح نور اور محمد حیات تاثیر کی وہ کشوف