انوارالعلوم (جلد 25) — Page 358
انوار العلوم جلد 25 358 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات (21) روزنامہ سفینہ کی ایک افترا کا جواب وو ” سفینہ لاہور مورخہ 5 ستمبر نے لکھا ہے مرزا صاحب نے اپنے خطبہ میں فتنہ میں حصہ لینے والوں کو گھٹیا قسم کے لوگ کہا ہے۔نیز کہا ہے کہ ان میں کوئی عالم اور صاحب رویا نہیں۔اس کے بعد پوچھا ہے کہ مرزا صاحب بتائیں کہ مندرجہ ذیل عالم نہیں ہیں؟ عبد المنان عمر ایم۔اے مولوی فاضل، علی محمد اجمیری مولوی فاضل، ملک عبد الرحمن خادم بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی، محمد صالح نور مولوی فاضل، محمد حیات تاثیر مولوی فاضل نیز مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے۔ایل۔ایل۔بی عالم اور صاحب کشف نہیں تھے ؟ جس خطبہ کا حوالہ دیا گیا ہے اُس میں لکھا ہے کہ جو شخص کسی خواب کے ذریعہ سے یا آسمانی دلائل کے ذریعہ سے مجھ پر ایمان لایا ہے اگر وہ اس فتنہ میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ خود اپنے آپ کو کذاب کہتا ہے۔اُسے ہر شخص کہے گا کہ اے بیوقوف ! اگر صداقت وہی ہے جس کا ثواب اظہار کر رہا ہے تو تُو نے اپنی خواب کیوں شائع کرائی تھی؟ اس کے بعد فتنہ کرنے والوں کے متعلق لکھا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت تک جن لوگوں نے اس فتنہ میں حصہ لیا ہے وہ نہایت ذلیل اور گھٹیا قسم کے ہیں ایک بھی ایسی مثال نہیں پائی جاتی کہ جماعت کے صاحب علم اور تقویٰ اور صاحب کشوف لوگوں میں سے کوئی شخص فتنہ میں مبتلا ہوا ہو۔سارے کے سارے خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے پاؤں پر کہ ہیں۔صرف بعض ادنیٰ قسم کے لوگ تھے جنہوں نے کہا کہ حضرت خلیفہ اول کی اولاد ایسا کہہ رہی ہے ہم کیا کریں۔میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ 42 سال تک جو تم نے میری بیعت کئے رکھی تھی تو کیا تم نے مجھے حضرت خلیفہ اول کی اولاد کی وجہ سے مانا تھا؟ اس مضمون کو پڑھ کر ہر عظمند سمجھ سکتا ہے کہ ایڈیٹر ”سفینہ“ نے جو اپنی لسٹ میں مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کا نام شامل کیا ہے وہ ہوش و حواس میں نہیں کیا۔خطبہ میں ذکر تو موجودہ فتنہ کا تھا جو حضرت خلیہ اول کی اولاد کی وجہ سے ہو رہا ہے اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے ایل ایل بی اس فتنہ سے چار سال پہلے فوت ہو چکے ہیں۔چار سال پہلے فوت ہونے والے شخص کا ذکر اس فتنہ کے سلسلہ میں ایڈیٹر سفینہ کے سوا کون کر سکتا ہے۔