انوارالعلوم (جلد 25) — Page 318
انوار العلوم جلد 25 اس میں کوئی رخنہ پیدا نہ ہو۔“ 318 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات (الفضل 28 جولائی 1956ء) (6) حضرت عثمان کے وقت میں ذرا سی غفلت نے اتحاد اسلام کو برباد کر دیا تھا بعض کمزور طبع احمدی کہتے ہیں کہ کیا چھوٹی سی بات کو بڑھادیا گیا ہے۔لاہور کا ہر شخص جانتا ہے کہ عبد الوہاب فاتر العقل ہے پھر ایسے شخص کی بات پر اتنے مضامین اور اتنے شور کی ضرورت کیا تھی۔حضرت عثمان کے وقت میں جن لوگوں نے شور کیا تھا ان کے متعلق بھی صحابہ یہی کہتے تھے کہ ایسے زئیل آدمیوں کی بات کی پروا کیوں کی جاتی ہے۔حال ہی میں مری پر عیسائیوں نے حملہ کیا تھا اور ایک یہ اعتراض کیا تھا کہ تبوک کے موقع پر تمہارے رسول ہزاروں آدمیوں کو لے کر جلتی دھوپ میں اور بغیر سامان کے سینکڑوں میل چلے گئے جب وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ معاملہ کچھ بھی نہیں۔کوئی رومی لشکر وہاں جمع نہیں تھے اگر وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو اتنی بڑی غلطی انہوں نے کیوں کی۔کیوں نہ خدا تعالیٰ نے ان کو بتایا کہ یہ خبر جو رومی لشکر جمع ہونے کی آئی ہے غلط ہے تبوک کا واقعہ یوں ہے کہ پہلے ایک عیسائی پادری مکہ میں آیا اور مکہ سے اس نے مدینہ کے منافقوں سے ساز باز کیا اور ان کو تجویز بتائی کہ اس کے رہنے اور تبلیغ کرنے کے لئے وہاں ایک نئی مسجد بنائیں چنانچہ انہوں نے قبانامی گاؤں میں ایک نئی مسجد بنادی۔وہ شخص چھپ کر وہاں آیا اور ان کو یہ کہہ کے روم کی طرف چلا گیا کہ میں رومی حکومت کو اکساتا ہوں تم ادھر یہ مشہور کر دو کہ رومی لشکر سر حدوں پر جمع ہو گیا ہے۔جب محمد رسول اللہ اسلامی لشکر سمیت اس طرف جائیں گے اور وہاں کسی کو نہ پائیں گے اور سخت مایوس ہو کر لوٹیں گے تو تم مدینہ میں مشہور کر دینا کہ یہ دیکھو مسلمانوں کا رسول۔بات کھ بھی نہ تھی مگر اس نے اس کو اتنی اہمیت دے دی مگر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی تائید کی اور صرف تین آدمی جو سینکڑوں کے لشکر میں سے پیچھے