انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 298

298 ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے احمدی احباب۔انوار العلوم جلد 25 جائے کہ اس سکیم اور اس کے مقاصد کو مؤثر طریق پر ہمیشہ کے لئے جاری رکھا جا سکے۔ہر وہ شخص جو وصیت کرے گا یا اس سکیم کے قواعد کے بموجب کم سے کم شرح کے مطابق چندہ دینے کا وعدہ کرے گاوہ اس شرط پر کہ اُس کی وصیت پوری ہو جائے یا حسبِ قواعد چندہ جات کی ادائیگی عمل میں آجائے، ان دونوں صورتوں میں اِس بات کا حقدار ہو گا کہ اسے ایسے قبرستانوں میں سے کسی ایک قبرستان میں دفن کیا جائے جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس غرض کے لئے قائم کئے جائیں گے۔اور اس صورت میں کہ اُس کی وفات ہندوستان میں واقع ہو تو وہ قادیان کے قبرستان میں یا اگر پاکستان میں ہو تو ربوہ کے قبرستان میں دفن ہو سکے گا۔لیکن یہ ضروری ہو گا کہ اُس کی نعش اِن قبرستانوں میں سے کسی ایک قبرستان تک پہنچانے کے اخراجات اُس کے اپنے ترکہ یا جائداد میں سے پورے کئے جائیں اور اس کی راہ میں کوئی قانونی یا کوئی اور رکاوٹ حائل نہ ہو۔وصیت یا چندہ جات کے وعدے کے ضمن میں جو تحریر لکھی جائے گی اُس میں یہ صراحت کی جائے گی کہ اس شرط کے پورا نہ ہو سکنے کا یہ مطلب نہ ہو گا کہ وصیت کو ناجائز یا خلاف قاعدہ قرار دیا جا سکے گا یا اس کی جائز یا قانونی حیثیت پر کوئی حرف آسکے گا یا ادا کر دہ چندوں کے بارے میں کسی مطالبہ یا دعوے کا جواز پیدا ہو سکے گا۔صدر انجمن ایسے تمام اشخاص کے نام جنہوں نے اس سکیم میں شامل ہونے کے بعد اس کی تمام شرائط کو پورا کر دیا ہو گا قادیان یار بوہ کے قبرستانوں میں مناسب جگہ پر کندہ کرانے کا انتظام کرے گی۔نیز ان کے نام ایک ریکارڈ کی شکل میں محفوظ رکھے جائیں گے۔جن کی نقول بڑے بڑے احمد یہ مراکز میں بھی رکھی جائیں گی تاکہ احمدیوں کی آنے والی نسلوں کو اپنے ان وفات یافتہ بھائیوں کی روحوں کے واسطے دعا کی تحریک ہوتی رہے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اموال کو اسلام اور انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کیا۔یہ امر بہت ضروری ہے اور اس بارے میں پوری احتیاط لازم ہے کہ اس تمام سکیم پر عملدرآمد کے وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے رائج الوقت قوانین کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے تا اِس بناء پر کسی وقت بھی کوئی اعتراض پیدا ہو کر اس سکیم یا اِس