انوارالعلوم (جلد 25) — Page 299
انوار العلوم جلد 25 299 ست ہائے متحدہ امریکہ کے احمدی احس کے مقاصد کو ناکام نہ بنا سکے۔جیسا کہ "الوصیت" میں بیان کیا گیا ہے وصیت کی اس سکیم کے فوائد اور رنگ میں بھی ظاہر ہوں گے اور بالآخر یہ انسانیت کے کمزور طبقوں کو اٹھانے اور انسانی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو ترقی دینے کا ذریعہ ثابت ہو گی۔کوئی نظام بھی جس کی بنیاد جبر و اکراہ پر ہو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔الوصیت میں جو سکیم پیش کی گئی ہے خالصتاً طوعی اور رضا کارانہ ہے اور خدمتِ اسلام کے ایک اجر کا درجہ رکھتی ہے۔اس لحاظ سے جو اخلاقی اور روحانی فوائد اِس تحریک کے ساتھ وابستہ ہوں گے تمام دوسرے نظام ان سے محروم ہیں۔رفتہ رفتہ ایک ملک کے بعد دوسر املک اس تحریک کو اپنانے کے لئے آگے آتا رہے گا۔اور اس طرح ان لوگوں کی طرف سے جو اس سکیم کے ذریعہ روحانی، اخلاقی اور مادی فوائد سے متمتع ہوں گے دنیا میں خدا کا نام بلند ہو تا رہے گا۔اس تحریک پر پاکستان اور ہندوستان میں پہلے سے عمل ہو رہا ہے۔میری خواہش ہے اور میں اس کے لئے دعا بھی کرتا ہوں کہ تحریک کو اپنانے والے ممالک میں سے امریکہ تیسرا ملک ثابت ہو۔اور اِس طرح وہ وسیع سے وسیع تر پیمانے پر انسانیت کی فلاح و بہبود اور اس کی ترقی کی بنیادیں استوار کرنے میں حصہ لے۔آمین برادران! ہم کمزور اور ناتواں ہیں لیکن ہمارا خدا طاقتور اور ہمہ قوت ہے ہمارے بس میں کچھ نہیں ہے لیکن وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔یقین رکھو کہ اس کی مدد تمہاری طرف دوڑی آرہی ہے۔بلا شبہ وہ خود تمہارے دروازے پر کھڑا ہے اور اندر داخل ہونا چاہتا ہے۔پس اٹھو اور اپنے دروازے کھول دو تا کہ وہ اندر آ جائے۔جب وہ تمہارے گھروں میں داخل ہو جائے گا اور تمہارے دلوں میں سما جائے گا تو زندگی تمہارے لئے منور ہو جائے گی اور دنیا میں تم اُسی طرح عزت دیئے جاؤ گے جس طرح آسمانوں میں اس کو عزت اور عظمت حاصل ہے۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔آمین“ روزنامه الفضل 9 فروری 1956ء)