انوارالعلوم (جلد 25) — Page 6
انوار العلوم جلد 25 6 سیر روحانی (8) سے کسی صورت میں دیں گے نہیں۔پس خدام کی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ کوشش کریں کہ ایک دوسرے سے آگے بڑھیں۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہمیں مدِ نظر رکھنا چاہیئے کہ جو ہم نے قانون بنایا ہے اُس کو کسی چھوٹی سی وجہ سے نہ توڑیں۔انہوں نے اچھا کام کیا ہے ہم نے اس کو کئی جگہ بیان کیا ہے اور تعریف کر دی ہے۔میرے کئی خطبوں میں ذکر آگیا میں اب بھی ان کی تعریف کر رہا ہوں، خدام کے جلسہ میں بھی ان کی تعریف کی۔اتنی تعریفوں کے بعد انہیں یہ کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم کراچی کا لواء ان کے حوالے کر دیں۔جہاں انہوں نے اتنا قدم بڑھایا ہے کہ ایک سست جماعت سے ایک زندہ جماعت بنے ہیں وہاں اگر وہ کوشش کریں اور کراچی کے نوجوانوں والی خدمات پیش کریں تو لواء بھی لے سکتے ہیں۔میں کراچی کے خدام کی ساری باتیں بیان نہیں کر سکتا لیکن در حقیقت انہوں نے جو قربانی کی ہے ابھی تک لاہور کی قربانی اُس کو پہنچتی نہیں۔تو اگر وہ کوشش کریں تو مجلس کی کراچی والوں سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور لاہور والوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔وہ یقینالاہور ہو یا گوجرانوالہ یا سیالکوٹ ہو جو جماعت بھی آگے نکلے گی وہ اُس کو لواء دیں گے۔(الفضل 11 جنوری 1955ء) اسکے بعد حضور نے بعض جماعتوں اور افراد کی طرف سے آنے والی تاریں پڑھ کر سنائیں اور پھر فرمایا:- ” اس کے بعد میں کل کی باتوں سے جو چند تحریکیں لوگوں نے کرنے کے لئے کہا تھا اُن کو پیش کرتا ہوں۔سلسلہ کے اخبارات ہمارے سلسلہ کے اخبارات میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر ایک خصوصیت رکھتا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے لوگوں میں اخباروں کے پڑھنے کا چرچا اور رواج ذرا کم ہے۔اس کی وجہ سے جو ان کی شہرت ہونی چاہیئے اور جو ان کا فائدہ ہونا چاہیئے وہ پوری طرح نہیں پہنچتا۔الفضل سب سے مقدم چیز تو " الفضل" ہے۔الفضل روزانہ اخبار ہے اور الفضل ہی ایک ایسا اخبار ہے جس کے ذریعہ سے ساری جماعتوں تک آواز پہنچتی۔