انوارالعلوم (جلد 25) — Page 260
انوار العلوم جلد 25 260 سیر روحانی نمبر (9) والے اس کو صرف مسیح پر پہنچ کر ختم کر دیتے ہیں۔قرآن کریم کے ذریعہ ہزار ہا علمی نہروں کا اجراء مگر جیسا کہ میں نے بتایا یہ نہریں کبھی خالص روحانی ہوتی ہیں اور کبھی دُنیوی علوم پر مشتمل ہوتی ہیں۔چنانچہ جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ علاوہ دینی علوم بخشنے کے قرآن کریم نے سابق علوم کو بھی زندہ رکھنے کا سامان کیا ہے اور وہ علمی نہریں چلا دی ہیں جو پہلے کسی زمانہ میں چلتی تھیں یا کبھی بھی نہیں چلتی تھیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے وہ کچھ سکھایا ہے جو پہلوں کو نہیں ملا تھا۔۔پس قرآن کریم کے ذریعہ جو عظیم الشان نہریں جاری ہوئی ہیں اُن کی مثال سابق مذاہب میں بھی نہیں دکھائی علم کائنات کی شہر چنانچہ پہلی دنیوی نہر جو اس نے چلائی وہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے قانونِ قدرت کی طرف توجہ دلائی اور اس سے ایک علم کی نہر بہہ گئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لايت لأولي الألباب - 10 یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں عقلمندوں کے لئے بہت بڑے نشان ہیں۔یعنی اگر وہ پیدائش سماوی اور ارضی پر غور کریں تو انہیں اس سے ایک بہت بڑا علم میسر آسکتا ہے۔وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ اِسی طرح رات دن کے باقاعدہ آگے پیچھے آنے میں بھی انہیں کئی نشان ملیں گے۔کیونکہ اگر کوئی قانون نہیں تو کیا وجہ ہے کہ روزانہ سورج ایک وقت میں چڑھتا ہے اور ایک وقت میں ڈوبتا ہے اور ہر موسم کے مطابق اُسکے طلوع و غروب کا وقت بدلتا چلا جاتا ہے یہ چیز بتاتی ہے کہ کوئی قانونِ قدرت موجود ہے جس کے ماتحت یہ سلسلہ جاری ہے۔پھر فرماتا ہے وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرت