انوارالعلوم (جلد 25) — Page 258
انوار العلوم جلد 25 258 سیر روحانی نمبر (9) لوگوں کے لئے حسرت کا موجب ہو جاتے ہیں۔ورود اسی طرح فرماتا ہے هُوَ الَّذِى خَلَقَ السَّمواتِ وَالْاَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا - 11 وہ خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ اوقات میں پیدا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کا عرش یعنی اُس کی حکومت اس سے پہلے پانی پر تھی۔اگر اس آیت کے دُنیوی معنے لو تو اس کے معنے وہی ہیں جو وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَى 12 میں بیان کئے گئے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت خالقیت پانی کے ذریعہ سے ظاہر کی ہے۔اور اگر دینی معنے لو تو ماء کے معنے وحی الہی کے ہیں اور اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان پر حکومت اپنی وحی کے ذریعہ سے ظاہر کی ہے۔لیبلوکم أيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا تا کہ وہ تمہاری آزمائش کرے اور یہ ظاہر کر دے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھے کام کرتا ہے۔پس پانی سے مراد علوم ہوتے ہیں دینی بھی اور دنیوی بھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ مَثَلُ ایک زبردست بارش سے مشابہت مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضاً فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةً قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَاءَ وَالْعُشْبَ الكَثِيرَ وَ كَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبَ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا۔12 یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مجھے ہدایت اور علم دیکر بھیجا ہے اُس کی مثال ایک بادل کی طرح ہے جس سے بڑی بارش ہوتی ہے مگر جب وہ کسی زمین پر پڑتی ہے تو کچھ تو اچھی زمین ہوتی ہے وہ پانی کو قبول کر لیتی ہے اور بڑا سبزہ نکالتی ہے۔اور کچھ ایسی زمینیں ہوتی ہیں کہ وہ پانی تو نے لیتی ہیں لیکن ان کا کام صرف اتنا ہو تا ہے کہ وہ اس پانی کو جمع رکھتی ہیں۔چنانچہ لوگ اس ذخیر ہ سے پانی پیتے اور آگے کھیتوں کو بھی پانی دیتے ہیں۔انجیل میں روحانی خوراک اور پھر یہ محاورہ صرف قرآن کریم میں ہی نہیں بلکہ انجیل میں بھی بیان ہوا ہے۔روحانی پانی کے محاورہ کا استعمال انجیل میں لکھا ہے کہ :