انوارالعلوم (جلد 25) — Page 251
انوار العلوم جلد 25 251 سیر روحانی نمبر (9) میں سے تھی میرے پاس آئی۔وہ یوں مزارع نہیں تھی موروثی تھے اور ان کا زمین پر قریباً مالک جیسا اختیار ہوتا ہے۔صرف وہ اسے مکانوں کے لئے بیچ نہیں سکتے۔جلسہ کے دن تھے وہ آئی اور دروازہ کے آگے بیٹھ گئی اور کہنے لگی۔جی! میں نے ایک گل کہنی ہے“۔میں نے کہا سناؤ۔کہنے لگی " پھر تسیں ذرا صبر نال سنو" میں نے کہا اچھا۔پھر کہنے لگی " میں ایس وقت بڑی مصیبت وچ ہاں۔میں کچھ امداد منگن آئی ہاں"۔میں نے کہا اچھا بی بی سناؤ۔غرض بڑی تمہیدیں باندھ کے اور سانس لے لے کے اُس نے بات کی۔میں اپنے دل میں یہ سمجھا کہ خبر نہیں یہ کتنے روپے مانگے گی۔اور اتنے روپے دینے کی مجھے توفیق بھی ہو گی کہ نہیں۔اپنے ذہن میں میں نے اندازہ لگایا کہ اتنی لمبی تمہید بتاتی ہے کہ یہ چار پانچ سو سے کم نہیں مانگے گی۔پر خیر مجھے خدا جو کچھ تو فیق دے گا میں اس کو دے دونگا۔بہر حال میں اس کو شہر دیتا گیا کہ بی بی ڈرو نہیں بیان کرتی جاؤ۔مگر وہ بیچاری کانپتی ہانپتی اور آہیں بھرتی چلتی چلی گئی اور آخر کہنے لگی " ایس وقت اک آٹھ آنے دی ضرورت پیش آگئی ہے"۔میرا تو دل ہی بیٹھ گیا۔میں نے کہا یا اللہ ! ہمارا ملک کتنا غریب ہو گیا ہے کہ اس عورت کو آٹھ آنے منہ سے نکالتے ہوئے ڈر آتا ہے کہ شاید میں دھتکار کر اس کو نکال دوں گا۔خیر میں نے اُسے ایک دو روپے دے دیئے اور وہ بیچاری دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی مگر میرے دل میں اس کا بڑاز خم لگا اور وہ آج تک نہیں بھولتا۔آٹھ آنے مانگنے کے لئے اس نے ڈرتے ڈرتے تمہیدیں باندھیں۔پندرہ بیس منٹ صرف کئے اور کہا " جی ! صبر نال سنو " گویا مجھے آٹھ آنے کا اتنا صدمہ پہنچے گا کہ میں سمجھوں گا اس نے گویا قارون کا خزانہ مانگا ہے۔تو جس بیچاری نے آٹھ آنے نہ ہونے کو مصیبت سمجھا اور جس نے آٹھ آنے مانگنے میں یہ سمجھا کہ خبر نہیں میں اس سے کتنا خفا ہو جاؤں گا کہ تو اتنی رقم مجھ سے لینے آگئی۔اُس غریب نے چندہ کیا دینا ہے۔زمینداروں کی حالت سدھارنے غرض زمینداروں کی حالت کو سدھار نا انجمن کا کام ہے۔ان کا فرض کے لئے نظارت زراعت کا قیام ہے کہ وہ فوراً ایک نظارت زراعت