انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 222

222 انوار العلوم جلد 25 جرمنی میں میں نے بتایا تھا کہ جب میں بیماری کی حالت میں پہنچا تو ایک شخص تین سو میل سے میری خبر سن کے وہاں پہنچا اور آکے کہنے لگا کہ میں نے الگ بات کرنی ہے۔میں نے کہا بہت اچھا۔میں کمرہ میں لے گیا۔کہنے لگا باقی سب کو یہاں سے نکال دیں۔میں نے سب دوستوں سے کہہ دیا کہ چلے جائیں۔وہ چلے گئے۔اس نے کچھ باتیں پوچھیں اور اس کے بعد کہنے لگا میں نے بیعت بھی کرنی ہے مگر ابھی مخفی رکھی جائے۔میں نے کہا کوئی حرج نہیں مخفی رکھیں گے۔وہ انٹر نیشنل فیم 4 (INTERNATIONAL FAME) کا آدمی ہے اور مشہور اور کنٹیلسٹ ہے ؟ اس کے مضامین جرمنی میں کثرت سے شائع ہوتے ہیں اور امریکہ میں بھی نقل کئے جاتے ہیں اور یورنیورسٹی نے اس کو اسلام پر کتاب لکھنے کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔غرض اس نے بیعت کر لی۔پھر نماز کے وقت مقام نماز میں نماز کے لئے آیا۔جب نماز سے میں نے سلام پھیر اتو دیکھا کہ وہ جماعت میں بیٹھا ہوا تھا۔میں نے اپنے مبلغ سے کہا کہ اس سے جرمنی میں پوچھو کہ تو تو کہتا تھا کہ بیعت مخفی رکھو اور یہاں تو نماز پڑھ رہا ہے ؟ بیعت مخفی کس طرح رہے گی؟ انہوں نے کہا میں نے پہلے بھی اس سے پوچھا تھا اور کہا تھا کہ تم نماز پڑھنے آگئے ہو یہ ٹھیک نہیں۔اس طرح تمہاری بیعت کا سب لوگوں کو پتہ لگ جائے گا۔تو کہنے لگا ان خلیفتہ المسیح نے کب بار بار جرمنی میں آنا ہے اس لئے یہ موقع جو ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا مجھے ملا ہے میں ضائع نہیں کرنا چاہتا۔اب اس نے جرمنی میں مضمون لکھ کے ہمارے سوئس (SUIS) رسالہ میں بھی بھیجا اور اطلاع آئی ہے کہ چھپ رہا۔اسی طرح لگانو سے ایک شخص آیا جو کہ یو۔این۔او کی طرف سے کوریا میں ہائی کمشنر تھا وہاں جماعت نے ایک ریسپشن (RECEPTION) دیا تھا جس میں وہ میرے بائیں طرف بیٹھا ہوا تھا۔پاس ہی خلیل ناصر صاحب تھے۔بعد میں میرا ایک رسالہ اس نے اپنی جیب سے نکالا جس کا نام "Why I Believe in Islam" ہے اور کہنے لگا یہ آپ کا رسالہ ہے جو مجھے بڑا پیارا ہے۔اس کو پڑھ کر اسلام کے متعلق میری بڑی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں اور میں نے سینکڑوں لوگوں میں یہ تقسیم کیا ہے۔میں کوریا میں