انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 221

انوار العلوم جلد 25 221 ڈالو کہ وہ خدا کے لئے دیں۔پس چندے بڑھاؤ اور کوشش کرو کہ کم سے کم پچھیں تیں لاکھ روپیہ سالانہ دونوں صیغوں کا ہو جائے بلکہ اس سے بھی بڑھے۔کیونکہ ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ کرتی ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کے لئے بھی رستہ کھول رہا ہے۔مثلاً مجھے بڑی خواہش تھی کہ امریکہ میں گورے بھی اسلام قبول کریں۔خدا کے بندے تو سارے ہیں کالے بھی اور گورے بھی مگر میری خواہش ہوتی تھی کہ امریکہ میں گورے بھی اسلام قبول کرنا شروع کر دیں۔اب کے خلیل ناصر صاحب آئے تو میں نے اُن کو تحریک کی۔اس کے معاً بعد وہاں سے گوروں کی بیعتوں کے خط آنے شروع ہو گئے۔ایک گورے کے خط کا تو اقتباس بھی چھپا ہے جو بڑے جوش سے بھرا ہوا ہے۔قرآن شریف سے پہلے جو میر ا دیباچہ لکھا ہوا ہے وہ اس نے پڑھا اور اس کے پڑھنے کے بعد اُس نے لکھا کہ "After reading most of the book I felt that I would be not only a fool but an idiot if I do not accept completely the teachings of Islam, as revealed by the Holly Prophet۔" یعنی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر میں اسلام کی صداقت پر ایمان نہ لایا تو یہ میری بیوقوفی اور حماقت ہو گی۔اسی طرح سینٹ لوئی میں دو بیعتیں پہلے ہو چکی تھیں آج تیسری بیعت کی اطلاع آئی ہے۔واشنگٹن میں اس ایک ہفتہ کے اندر تین نئے آدمیوں نے بیعت کی ہے جن کی آمدن اڑھائی ہزار روپیہ ماہوار ہے اسی طرح انہوں نے لکھا ہے کہ اور لوگ بھی توجہ کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں۔بڑی مدت سے لبنان میں کوئی تعلیم یافتہ آدمی احمدی نہیں ہوا تھا وہاں ہمارا جو مبلغ ہے آج ہی اُس کا خط آیا ہے جس میں اُس نے ایک بیر سٹر کی بیعت کی اطلاع بھجوائی ہے۔وہ ہے بھی ذرا بڑی حیثیت کا آدمی۔ڈرتا ہے کہ لوگوں میں میری بدنامی نہ ہو اِس لئے اُس نے کہا ہے کہ میر انام ظاہر نہ کیا جائے۔لیکن بہر حال اس نے بیعت کی ہے اور سلسلہ کا لٹریچر اس نے پڑھا ہے۔