انوارالعلوم (جلد 25) — Page 209
انوار العلوم جلد 25 209 متفرق امور والے بھی ہوتے ہیں) تب بھی بیالیس لاکھ بنتا ہے۔گویا بیالیس لاکھ روپیہ چندہ صرف زمیندار دے سکتے ہیں۔اسی طرح وہاں کا تاجر ہے بالکل معمولی حیثیت سے کام شروع کرتا ہے اور کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔بعض لوگ تو معمولی حیثیت سے ترقی کر کے کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔میں نے راک فیلر وغیرہ کی ہسٹریاں پڑھی ہیں۔شروع میں ان کے بہت چھوٹے چھوٹے کام تھے اور اب انہوں نے اربوں ارب روپیہ صدقات میں دیا ہوا ہے۔پس ایک تو زمیندار کو کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور انہیں ہمیشہ اچھا پیچ تلاش کرنا چاہیئے۔بیچ پر بڑی بنیاد ہوتی ہے۔اسی طرح کھاد بڑی ضروری چیز ہے۔ہمارے ہاں زمین خراب ہو رہی ہے کیونکہ زمیندار کھاد نہیں دیتے۔میری سندھ میں کچھ زمینداری ہے۔وہاں یہی تماشا بنارہتا ہے۔ہم انہیں زمین کا ایک حصہ ہمیشہ برسیم کے لئے دیتے ہیں کیونکہ برسیم کے بعد کپاس کئی گنے زیادہ ہو جاتی ہے۔اس طرح گندم و غیر ہ بہت زیادہ تی ہے۔مصر میں میں گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ برسیم کے کھیت اتنے اونچے تھے کہ بر سیم قد آدم تک نکلی ہوئی تھی۔اور ریل کی کھڑکیوں میں سے برسیم کے پودے اندر آ جاتے تھے۔میں نے اُن سے پوچھا کہ یہ تم کب سے لگاتے ہو ؟ انہوں نے کہا سینکڑوں سال سے۔گویا سینکڑوں سال سے وہاں بر سیم بوئی جارہی ہے اور سینکڑوں سال سے اُسی میں کپاس بوئی جارہی ہے اور پھر وہاں سارے ملک کی اوسط پچیس من ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ وہاں چھوٹے چھوٹے زمیندار بھی چالیس چالیس پچاس پچاس من فی ایکڑ پیدا کرتے ہیں اور اس کپاس کی قیمت ہمارے ملک سے بہت زیادہ ہے۔یہ سمجھ لو وہ قریباً سولہ سو، اٹھارہ سو یا دو ہزار روپیہ صرف کپاس سے پیدا کر لیتے ہیں علاوہ دوسری فر کے اُس کو دیکھتے ہوئے ہم نے بھی برسیم لگوائی ہے۔میں نے سمجھا کہ اس سے فصل کو فائدہ پہنچے گا۔مگر مینجر کہنے لگا ہم بہتیر اشور مچاتے رہتے ہیں مگر یہ لوگ زمین میں کھاد کے طور پر اسے دفن ہی نہیں کرتے کاٹ کے جانوروں کو کھلا دیتے ہیں اور پھر فصل ویسی کی ویسی رہ جاتی ہے۔غرض برابر دس بارہ سال سے ہم وہاں زور لگا رہے ہیں مگر ابھی تک فصلوں