انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 208

انوار العلوم جلد 25 208 متفرق امور وہاں گزارے ہوتے ہیں اُس کے لحاظ سے تو ہمارے ہاں چودہ ایکٹر سے اُن کے نوکر کی تنخواہ بھی نہیں نکلتی۔وہ کہنے لگے چودہ ایکٹر زمین سے میرا اور میرے بیوی بچوں کا گزارہ بھی ہوتا ہے۔وہ اپنا بھی گزارہ کرتا ہے اور گو بہن نے اُس کو زمین دے دی ہے مگر وہ اس کو بھی کچھ روپیہ بھیجتا ہے۔اور پھر اس چودہ ایکٹر پر چھ یا سات مزارعے ہیں۔ان کا بھی یورپین سٹینڈرڈ کے مطابق گزارہ ہوتا ہے۔میں نے کہا اتنی آمد کس طرح ہوتی ہے؟ وہ کہنے لگے وہاں ہر زمیندار ایک فارم بنالیتا ہے اور اس کے ارد گرد پھل دار درختوں کی باڑ بناتا ہے جس سے ایک باغ بن جاتا ہے اور وہ اس کے پھل بیچتا ہے۔پھر ہمارے ہاں تو بھیڑیں پالتے ہیں اُن کے ہاں سور پالتے ہیں۔وہ بھی سور پالتا ہے اور سال میں سوروں کی ایک خاصی تعداد ہو جاتی ہے جس سے اس کو ہزار بارہ سو یا پندرہ سو روپیہ مل جاتا ہے۔پھر وہ شہد کی مکھیاں پالتا ہے اور ان کا شہر بیچتا ہے۔پھر پھول لگاتا ہے اور ان پھولوں کو بیچتا ہے۔اسی طرح اُس نے گائیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں جن کا دودھ اور گھی بیچتا ہے۔اس طرح اس کی آمد زیادہ ہوتی ہے؟ میں نے کہا فی ایکڑ کیا آمد ہوتی ہے۔وہ کہنے لگے چودہ سو روپیہ۔گویا اچھی زمین کی وہاں عام اوسط آمدن چودہ سو روپیہ فی ایکٹر سمجھی جاتی ہے۔اس لحاظ سے اُنیس ہزار روپیہ اُس کی آمد ہو گی۔اس میں سے تین چار ہزار روپیہ اُس نے اپنے داماد کو دے دیا، چار پانچ ہزار روپیہ آپ خرچ کیا، چار پانچ ہزار اپنی بہن کو دے دیا۔تو چودہ ایکٹر میں سب کا گزارہ ہو گیا۔ہمارے ملک میں چودہ ایکٹر والے زمیندار سے پوچھو تو کہے گا: بس بجھتے ہی مردے ہاں۔ساگ مکئی دی روٹی تے پاکے کھالیندے ہاں۔بس لون سلوناہی ملدا ہے کوئی ہور تے کھان نو چیز نہیں ملدی“۔ہمارے کہتے ہیں کہ اوسط چھ ایکڑ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اٹلی کے حساب سے 8400 روپیہ سالانہ کی آمد ہونی چاہئے۔گویا 700 روپیہ مہینہ۔ہمارا ز میندار خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لاکھ سے زیادہ ہے سات سو روپیہ مہینہ کے حساب سے سات کروڑ روپیہ آمد بنتی ہے۔سات کروڑ کا اگر عام چندہ ہی رکھو ( گو بیچ میں وصیت کرنے