انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiii of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page xxiii

انوار العلوم جلد 25 xiii تعارف ک کا نام رکھنے کی وجوہات بیان فرمائیں اور اس لفظ کے قرآن و احادیث اور تاریخ اسلام میں استعمال پر روشنی ڈالی۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں انصار اللہ نام کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔”جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی انصار اللہ کا دو جگہ ذکر آتا ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کی پیغامیوں نے مخالفت کی تو میں نے انصار اللہ کی ایک جماعت قائم کی۔اور دوسری دفعہ جب جماعت کے بچوں، نوجوانوں ، بوڑھوں اور عورتوں کی تنظیم کی گئی تو چالیس سال سے اوپر کے مردوں کی جماعت کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔گویا جس طرح قرآن میں دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے اسی طرح جماعت احمدیہ میں بھی دو زمانوں میں دو جماعتوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔پہلے جن لوگوں نام انصار اللہ رکھا گیا اُن میں سے اکثر حضرت مسیح موعود السلام کے صحابہ تھے کیونکہ یہ جماعت 1913ء، 1914ء میں بنائی گئی تھی اور اُس وقت اکثر صحابہ زندہ تھے اور جماعت میں بھی اکثر وہی شامل تھے۔“ اس خطاب میں حضور نے انصار اللہ کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی بالخصوص مجلس انصار اللہ کو نظام خلافت کے ساتھ وابستگی اور اس کی حفاظت کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اجتماع کے اختتامی خطاب (فرمودہ مؤرخہ 27اکتوبر 1956ء) میں حضور نے احمدیت کی اشاعت اور نظامِ خلافت کی حفاظت کیلئے انصار اللہ کو اپنا عہد ہمیشہ یاد رکھنے کی تلقین فرمائی۔نیز نظام خلافت کی برکت سے دنیا میں ہونے والی احمدیت کی اشاعت پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی۔اور احمدیت کی ترقی اور اشاعت کیلئے نظام خلافت کی مضبوطی کو ضروری قرار دیا۔اس خطاب کے آخر پر آپ نے فرمایا:۔”جب خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمارا تعلق رہے گا، خدا تعالیٰ کا تعلق