انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 199

انوار العلوم جلد 25 199 متفرق امور بھی تو بڑی چیز ہے۔میں نے کہا آپ میر ا حال تو نہیں جانتے۔میں نے تو تندرستی میں بعض دفعہ رمضان شریف میں پندرہ پندرہ سولہ سولہ سیپارے ایک سانس پڑھے ہیں۔پس میری تو ایک سیپارہ پر گھبراہٹ سے جان نکلتی ہے کہ مجھے ہو کیا گیا ہے کہ یا تو پندرہ سولہ سیپارے پڑھنے اور ساتھ ہی زبان سے بھی پڑھتے جانا اور آنکھوں سے بھی دیکھتے جانا اور کجا یہ کہ ایک سیپارے کے ساتھ ہی گھبر اہٹ شروع ہو جاتی ہے۔وہ بیچارہ اس پر کہنے لگا کہ یہ تو بہت بڑا کام ہے۔غرض لکھے ہوئے نوٹ پڑھنے مجھے مشکل نظر آتے ہیں یوں تو میں انشاء اللہ تعالیٰ پڑھ لوں گا لیکن یہ ڈر آتا ہے کہ نظر پر بوجھ پڑنے کی وجہ سے گھبر اہٹ نہ شروع ہو جائے۔پہلا مضمون تو میں جماعت کے سامنے یہ لیتا ہوں کہ خدمتِ خلق مومن کا ایک خاصہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اسلام کا خلاصہ ہے تعلق باللہ اور شفقت علی خلق اللہ۔یعنی انسان خدا سے محبت کرے اور اس کے بندوں کے ساتھ مہربانی کا سلوک کرے۔پچھلے سیلابوں کے وقت میں پاکستان کے خدام نے نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا ہے۔اسی طرح قادیان کے خدام نے بھی اچھا نمونہ دکھایا ہے اور اس کا لوگوں کی طبیعتوں پر بڑا اثر ہوا ہے۔یاد رکھو کہ اس وقت تک یورپ کے لوگ مسلمانوں کو یہی طعنہ دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ منہ سے تو بڑی اچھی تعلیمیں بیان کرتے ہیں لیکن عملاً ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ یہ کبھی بھی بنی نوع انسان کے لئے کوئی قربانی نہیں کرتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم محض زبانی ہے عملی نہیں۔وہ تو حکومت کے متعلق کہتے ہیں کہ کہنے کو تو حکومت کے متعلق بہت اچھے قانون ہیں مگر کون سی اسلامی حکومت ہے جس نے اسلام پر عمل کیا ہے۔مگر وہ تو ہمارے بس کی بات نہیں نہ ہمارے پاس حکومت ہے اور نہ ہم وہ نمونہ دکھا سکتے ہیں۔اگر کسی ملک میں اللہ تعالیٰ نے حکومت دی اور وہاں کے احمدیوں کے اندر اخلاص قائم رہا اور انہوں نے نمونہ دکھایا تو پھر ان کا منہ بند ہو گا۔مگر کم سے کم جو ہمارے اندر خدمت خلق کی طاقت ہے اُس کا تو ہم نمونہ دکھائیں۔