انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 184

انوار العلوم جلد 25 184 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء کا عرصہ بڑا لمبا عرصہ ہے۔یوں تو مومن کو قیامت تک کے لئے عزم کرنا چاہئے لیکن کم سے کم تین سو سال تک تو ہماری آئندہ نسلوں کو یہ عزم کرنا چاہئے کہ یکے بعد دیگرے ہم سلسلہ کا بوجھ اٹھاتے چلے جائیں گے اور اسلام کی اشاعت میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔اِس وقت میں دیکھتا ہوں کہ نئے خاندانوں میں سے تو لوگ وقف کی طرف آرہے ہیں مگر پرانے خاندانوں میں سے کم آرہے ہیں۔پس سلسلہ کے لئے بھی دعا کرو اور ان لوگوں کے لئے بھی کرو جن کو خدا تعالیٰ نے پہلے احمدیت کی خدمت کی توفیق دی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے خاندانوں کو بھی اس کی توفیق دیتار ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعد میں آنے والے مومن ہمیشہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ! ہمیں بھی بخش اور اُن کو بھی بخش جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں 2 تو ان لوگوں کا بھی ایک حق ہے کیونکہ ان کے ذریعہ سے ہی ایمان آپ تک پہنچا ہے۔اس طرح آپ لوگ کوشش کریں کہ خدا تعالیٰ آپ میں ایمان قائم رکھے اور ایسا ایمان قائم رکھے کہ وقف کے ذریعہ سے جماعت کی ترقی کے لئے آپ لوگ ہمیشہ کوشاں رہیں۔بے شک خدمات کے کئی ذرائع ہیں۔قومی طور پر تو یہی ذریعہ ہے کہ اپنے ایمانوں کو مضبوط رکھا جائے۔جیسے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سارے لوگ وقف نہیں کر سکتے کچھ لوگ کر سکتے ہیں۔سارے لوگوں کا وقف یہی ہے کہ تمام لوگ اپنے ایمانوں کو پختہ رکھیں اور اپنی قربانی کو بڑھاتے چلے جائیں۔اگر سارے لوگ اپنے ایمانوں کو پختہ نہ رکھیں اور قربانی کو نہ بڑھاتے چلے جائیں تو وقف کرنے والے کھائیں گے کہاں سے؟ ان کے کھانے پینے کا تبھی سامان ہو سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق دیتا چلا جائے اور ان کے چندے بڑھتے چلے جائیں۔آخر یہ سلسلہ بڑھے تو ہمیں دس پندرہ ہزار واقفین چاہئیں۔ملک کا معیار زندگی اتنا بڑھتا چلا جاتا ہے کہ جو اچھی دینی یا دنیوی تعلیم والے ہوں گے اُن کو اپنے ہمسایوں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کم سے کم چار پانچ سو روپیہ ماہوار کی ضرورت ہو گی۔اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ اگر دس ہزار واقتھین ہوں تو چالیس پچاس لاکھ روپیہ ماہوار کی آمدنی ہونی چاہئے۔یعنی چھ کروڑ روپیہ سالانہ۔ما