انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 175

انوار العلوم جلد 25 175 مجلس انصار اللہ و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955ء میں خطابات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائیں گی۔پس خدمت کرو اور کرتے چلے جاؤ تمہارا نام خدام احمد یہ ہے۔خدام احمدیہ کے یہ معنی نہیں کہ تم احمدیت کے خادم ہو۔خدام احمدیہ کے معنی ہیں تم احمدی خادم ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سَیدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۔اگر تم واقع میں بچے احمدی بنو گے اور بچے خادم بھی بنو گے تو تھوڑے دنوں میں ہی خدا تم کو سید بنادے گا۔ہر شخص تمہارا ادب اور احترام کرے گا۔اور لوگ سمجھیں گے کہ ملک کی نجات ان کے ساتھ وابستہ ہے۔دیکھو یہ کس طرح اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر ملک کی خدمت کرتے ہیں۔سو اپنے اس مقام کو ہمیشہ یاد رکھو اور ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہو کہ تمہارے ذریعہ سے دنیا کا ہر غریب اور امیر فائدہ اٹھائے۔نہ امیر سمجھے کہ تم اُس کے دشمن ہو نہ غریب سمجھے کہ تم اُس کے دشمن ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے غریب بھی بندے ہیں اور امیر بھی بندے ہیں۔ہزاروں باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں امیر بھی خدمت کے محتاج ہوتے ہیں اور ہزاروں مواقع ایسے آتے ہیں کہ غریب بھی خدمت کے محتاج ہوتے ہیں۔تم دونوں کی خدمت کرو کیونکہ احمدیت غریب اور امیر میں کوئی فرق نہیں کرتی۔بالشویک غریبوں کی خدمت کرتے ہیں اور کیپیٹلسٹ (CAPITALIST) امیروں کی خدمت کرتے ہیں۔تم خدام احمد یہ ہو تمہارا کام یہ ہے کہ امیر مصیبت میں ہو تو اس کی خدمت کرو اور غریب مصیبت میں ہو تو اُس کی خدمت کرو یہاں تک کہ ہر فرد بشر یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اُس کی نجات کا ذریعہ بنا دیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل ہر قسم کی قومی ترقیات تم حاصل کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں تم پر نازل ہوں گی۔اور یاد رکھو کہ جہاں جہاں جاؤ خدام کی تعداد بڑھانے کی کوشش کرو۔میرا اندازہ یہ ہے کہ تمام احمدیوں کا چالیس فیصدی خدام ہونے چاہیں۔سو اپنی جماعت کو جمعہ کے دن اور عید کے دن دیکھو کہ کتنی تھی اور پھر دیکھو کہ کیا اس کا چالیس فیصدی خدام ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو ہر ایک کے پاس جاؤ اور اُس کو تحریک کرو کہ وہ بھی آئے اور خدام میں شامل ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تم کو بچے طور پر خدام احمد یہ بننے کی توفیق دے۔