انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 168

انوار العلوم جلد 25 168 مجلس انصار اللہ و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955 ء میں خطابات انصار اللہ کو بھی۔مجھے امید ہے کہ دونوں میری ان مختصر باتوں کو یاد رکھیں گے، اپنے اپنے فرائض کو ادا کریں گے اور اپنے اپنے علاقوں میں ایسے اعلیٰ نمونے پیش کریں گے کہ لوگ ان کے نمونے دیکھ کر ہی احمدیت میں داخل ہونے لگ جائیں۔مجھے تو یہ دیکھ کر گھبراہٹ ہوتی ہے کہ تحریک جدید کا چندہ دو تین لاکھ روپے سالانہ ہوتا ہے اور وہ بھی بڑا زور لگالگا کر حالانکہ کام کے لحاظ سے دو تین کروڑ بھی تھوڑا ہے۔صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ چندہ دس گیارہ لاکھ روپیہ ہوتا ہے حالانکہ کام کے پھیلاؤ کو تو جانے دو جو صدرانجمن احمدیہ کے ادارے ہیں اُن کو بھی صحیح طور پر چلانے کے لئے 30 ، 40لاکھ روپے چندہ ہونا چاہیئے۔مگر 40،30لاکھ چندہ تو تبھی ہو گا جب جماعت چار پانچ گنے زیادہ بڑھ جائے۔مگر اب تو ہمارے مبلغ ایسے پست ہمت ہیں کہ جب کسی مبلغ سے پوچھا جائے کہ تبلیغ کا کیا حال ہے؟ تو وہ کہتا ہے جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہی ہے اس سال جماعت میں دو آدمی اور شامل ہو گئے ہیں۔اگر تبلیغ کی یہی حالت رہی تو کسی ایک ملک میں دو لاکھ احمدی بنانے کے لئے ایک لاکھ سال چاہئیں۔پس دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ کے حضور میں اتنا گڑ گڑاؤ اور اتنی کوششیں کرو کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے تمہاری مدد کے لئے اتر آئیں۔انسانی زندگیاں محدود ہیں مگر ہمارا خدا ازلی ابدی خدا ہے۔اس لئے اگر وہ یہ بوجھ جو ہم نہیں اٹھا سکتے آپ اٹھالے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔جب تک ہم یہ کام انسان کے ذمہ سمجھتے ہیں تب تک فکر رہے گا کیونکہ انسان تو کچھ مدت تک زندہ رہے گا پھر فوت ہو جائے گا مگر خدا تعالیٰ خود اس بوجھ کو اٹھالے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔یہ اُسی کا کام ہے اور اُسی کو سجتا ہے اور جب خد اتعالیٰ خود اس بوجھ کو اٹھالے گا تو پھر اس کے لئے زمانہ کا کوئی سوال نہیں رہے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ صدیاں تعلق نہیں رکھتیں ان کا تعلق تو ہمارے ساتھ ہے ورنہ خدا تعالیٰ تو از لی ابدی خدا ہے۔پس دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی اور مجھے بھی توفیق دے کہ ہم ثواب حاصل کریں۔لیکن جو اصل چیز ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ یہ بوجھ خود اٹھالے تا کہ آئندہ ہمارے لئے کوئی فکر کی بات نہ رہے۔" ( الفضل 15 دسمبر 1955ء)