انوارالعلوم (جلد 25) — Page 167
انوار العلوم جلد 25 167 مجلس انصار الله و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955 ءمیں خطابات نکالا بھی عیسائیوں نے ہی تھا مگر وہی آج ان کے زیادہ ہمدرد ہیں گویا ایک لمبی قربانی کے بعد ان کے دل بھی پسیج گئے۔پس ہمیشہ ہی اسلام کی روح کو قائم رکھو، اس کی تعلیم کو قائم رکھو اور یاد رکھو کہ تو میں نوجوانوں کی دینی زندگی کے ساتھ ہی قائم رہتی ہیں۔اگر آنے والے کمزور ہو جائیں تو وہ قوم گر جاتی ہے۔مگر کوئی انسان یہ کام نہیں کر سکتا صرف اللہ ہی یہ کام کر سکتا ہے۔انسان کی عمر تو زیادہ سے زیادہ 60، 70، 80 سال تک چلی جائے گی مگر قوموں کی زندگی کا عرصہ تو سینکڑوں ہزاروں سال تک جاتا ہے۔دیکھو! مسیح علیہ السلام کی قوم بھی دو ہزار سال سے زندہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم 1300 سال سے زندہ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جب تک دنیا قائم رہے گی یہ بڑھتی چلی جائے گی۔تم بھی ایک عظیم الشان کام کے لئے کھڑے ہوئے ہو پس اس روح کو قائم رکھنا، اسے زندہ رکھنا اور ایسے نوجوان جو پہلوں سے زیادہ جو شیلے ہوں پیدا کرنا تمہارا کام ہے۔ایک بہت بڑا کام تمہارے سپر د ہے۔عیسائی دنیا کو مسلمان بنانا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے جتنا عیسائی دنیا کو یہودیوں کا ہمدرد بنانا۔کیونکہ عیسائی دنیا کو ہمدرد بنانے میں تو صرف دماغ کو فتح کیا جاتا ہے لیکن عیسائیوں کو مسلمان بنانے میں دل اور دماغ دونوں کو فتح کرنا پڑے گا اور یہ کام بہت زیادہ مشکل پس دعاؤں میں لگے رہو اور اپنے کام کو تا قیامت زندہ رکھو۔محاورہ کے مطابق میرے منہ سے " تا قیامت" کے الفاظ نکلتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں " تا قیامت" بھی درست نہیں۔قیامتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔پس میں تو کہوں گا کہ تم اسے ابدی زمانہ تک قائم رکھو کیونکہ تم ازلی اور ابدی خدا کے بندے ہو۔اس لئے ابد تک اس نور کو جو تمہارے سپر د کیا گیا ہے قائم رکھو۔اور محمدی نور کو دنیا میں پھیلاتے چلے جاؤ یہاں تک کہ ساری دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے لگ جائے اور یہ دنیا بدل جائے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت جو آسمان پر ہے زمین پر بھی آجائے۔میں بیمار ہوں زیادہ لمبی تقریر نہیں کر سکتا۔اس لئے میں مختصر سی دعا کر کے رخصت ہو جاؤں گا۔میں نے اپنی مختصر تقریر میں خدام کو بھی نصیحت کر دی ہے اور