انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 166

انوار العلوم جلد 25 شربت کے لئے بھی کسی گلاس کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اسلام کی روح کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کسی گلاس کی ضرورت ہے اور ہمارے خدام الاحمدیہ وہ گلاس ہیں جن میں اسلام کی روح کو قائم رکھا جائے گا اور ان کے ذریعہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے گا۔دیکھو آخر ہم بھی انسان ہیں اور یہودی بھی انسان ہیں۔ہمارا دین ان کے دین سے بہتر ہے اور ہمارار سول ان کے رسول سے افضل ہے مگر یہودیوں کو فلسطین سے نکال دیا گیا تو وہ اسے دو ہزار سال تک نہیں بھولے۔بلکہ اتنے لمبے عرصہ تک انہیں یہ یاد رہا کہ انہوں نے فلسطین میں دوبارہ یہودی اثر کو قائم کرنا ہے اور آخر وہ دن آگیا۔اب وہ فلسطین پر قابض ہیں۔ہمیں اس بات پر غصہ تو آتا ہے اور ہم حکومتوں کو اس طرف توجہ بھی دلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو انہیں توجہ دلاتے رہیں گے کہ اب یہ اسلامی علاقہ ہے یہودیوں کا نہیں اس لئے یہ مسلمانوں کو ملنا چاہیئے مگر ہم اس بات کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہودیوں نے دو ہزار سال تک اس بات کو یاد رکھا جو دوسری قو میں بعض دفعہ ہیں سال یا سو سال تک بھی یاد نہیں رکھ سکتیں۔پس یادر کھو کہ اشاعت دین کوئی معمولی چیز نہیں۔یہ بعض دفعہ جلدی بھی ہو جاتی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں 23 سال میں ہو گئی اور پھر مزید اشاعت کوئی 50 سال میں ہو گئی۔مگر کبھی کبھی یہ سینکڑوں سال بھی لے لیتی ہے جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں اس نے ایک سو سال کا عرصہ لیا۔اور کبھی یہ ہزاروں سال کا عرصہ بھی لے لیتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو یہودیوں کا دنیوی نفوذ تو بہت کم عرصہ میں ہو گیا تھا لیکن دوسری قوموں کی ہمدردی انہیں دو ہزار سال بعد جا کر حاصل ہوئی۔جب لوگوں کو یہ محسوس ہو جاتا ہے کہ کوئی قوم اپنے آثار اور اپنی تعلیمات کو قائم رکھنے کے لئے ہر وقت تیار ہے اور آئندہ بھی تیار رہے گی تو اُس قوم کے دشمن بھی اُس کے ہمدرد ہو جاتے ہیں۔کیا یہ لطیفہ نہیں کہ عیسائیوں نے ہی یہودیوں کو فلسطین سے باہر نکالا تھا اور اب عیسائی ہی انہیں فلسطین میں واپس لائے ہیں۔دیکھو یہ کیسی عجیب بات ہے آج سب سے زیادہ یہودیوں کے خیر خواہ امریکہ اور انگلینڈ ہیں اور یہ دونوں ملک عیسائیوں کے گڑھ ہیں۔فلسطین سے یہودیوں کو 166 مجلس انصار الله وخدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955ء میں خطابات