انوارالعلوم (جلد 25) — Page 154
انوار العلوم جلد 25 154 سفر یورپ سے واپسی پر کراچی میں۔۔۔خطاب تو کمرہ کے اندر ایک دو ٹوٹی ہوئی کرسیاں پڑی ہوئی تھیں اور ایک رڈی سی چارپائی بچھی تھی مگر اُس پر جو ڈا کٹر بیٹھے کام کر رہے تھے وہ اس طرح ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا گویا اُن کا کوئی عید کا دن ہے۔مجھے بھی ایک ادنی سی کرسی پر بٹھا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر فلوگل بڑی تیزی سے اپنا موٹر دوڑاتے ہوئے 135 کلومیٹر سے وہاں پہنچا اور آتے ہی بغیر سانس لیے اس نے مجھے اشارہ کیا اور چار پائی پر لٹا کر اس نے میر امعائنہ شروع کر دیا۔معائنہ کرنے کے بعد ہم نے اسے فیس پیش کی تو اس نے فیس لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ مذہبی لیڈر ہیں اس لئے میں ان سے کوئی فیس نہیں لوں گا۔منور نے ان سے کہا کہ آپ نے ہماری خاطر بڑی تکلیف اٹھائی ہے آپ کچھ نہ کچھ فیس ضرور قبول کر لیں مگر اس نے پھر بھی فیس نہیں لی۔پھر میں نے اس کے سیکرٹری سے کہا اور اس نے فیس کے لئے کہا تو ڈاکٹر فلوگل نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ میں نے ایک دفعہ جو کہہ دیا ہے کہ میں فیس نہیں لوں گا۔پھر ہم نے اپنے مبلغ کے ذریعے انہیں کہلوایا کہ ہم پاکستان سے صرف علاج کرانے کے لئے یہاں آئے ہیں اور روپے خرچ کر رہے ہیں آپ بھی فیس لے لیں۔مگر اُس نے پھر بھی یہی کہا کہ یہ مذہبی لیڈر ہیں میں نے ان سے کچھ نہیں لینا۔غرض پندرہ بیس منٹ تک کوشش کی گئی مگر اس نے فیس نہیں لی۔وہاں سے ہم ہیمبرگ پہنچے تو وہاں ڈاکٹر ٹینکر کو دکھایا گیا۔یہ اتنا مشہور ڈاکٹر ہے کہ امریکہ سے بھی لوگ اس کے پاس علاج کرانے کے لئے آتے ہیں مگر اس نے بھی فیس نہیں لی۔اُسے بہتیر ا کہا گیا کہ فیس لے لیں مگر اُس نے بھی فیس لینے سے انکار کر دیا۔چاقو کی نوک جو اندر رہ گئی تھی اُس کے متعلق اس نے کہا کہ بے شک نوک اندر موجود ہے مگر نیچر نے اسے گور (COVER) کر دیا ہے اس لئے اب اسے نکالنا مناسب نہیں۔اگر اسے نکالا گیا تو ساری ریڑھ کی ہڈی کاٹنی پڑے گی اور یہ خطر ناک چیز ہے۔اس لئے نوک کے بارہ میں کوئی فکر نہ کریں قدرت نے خود بخود اس پر جھلی بنادی ہے اس لئے اب وہ جسم کے لئے خطرناک نہیں رہی۔پھر یہ خیال کر کے کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میں ٹلا رہا ہوں کہنے لگا کہ میں ٹلا نہیں رہا۔اگر میرے باپ کے جسم کے اندر بھی یہ نوک ہوتی