انوارالعلوم (جلد 25) — Page 153
انوار العلوم جلد 25 153 سفر یورپ سے واپسی پر کراچی میں خطار پندرہ بیس دن کی لازمی طور پر چھٹی دی جائے اور اُس کا فرض قرار دیا جائے کہ وہ ان ایام میں کوئی کام نہ کرے اور تبدیلی آب و ہوا کے لئے کسی صحت افزا مقام پر چلا جائے۔امریکہ میں یہ حالت ہے کہ خطرناک موقعوں پر بھی جب سارے ملک میں شور پڑا ہوا ہوتا ہے امریکہ کا پریذیڈنٹ جہاز میں بیٹھ کر سیر کے لئے نکل جاتا ہے اور وہ اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتا کہ ملک کا کیا بنے گا۔پچھلی دفعہ بھی جب جنگ کے خطرات تھے وہ جہاز میں بیٹھ کر سیر کے لئے نکل گیا۔اس پر ملک میں بڑا شور اٹھا مگر بڑے طبقہ نے پریذیڈنٹ کی تائید کی اور کہا کہ اگر وہ اپنے دماغ کو سکون نہیں پہنچائیں گے تو ملک کا کام کس طرح کر سکیں گے۔پس سیر بھی اپنی ذات میں بیماری کے علاج کا ایک اہم حصہ ہے۔میں نے بتایا ہے کہ میرا اصل علاج ڈاکٹر روسیو نے کیا۔اس نے ہمیں دن مسلسل میر امعائنہ کیا اور میرے لئے علاج تجویز کیا۔مگر ہیں دن معائنہ کرنے کے بعد اس نے ہم سے صرف ساڑھے آٹھ سو فرانک لئے جو بہت کم فیس تھی۔ہم نے بہت کوشش کی کہ وہ کچھ اور فیس لے لے مگر اس نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اس سے زیادہ نہیں لے سکتا۔اب بھی جب میں واپسی پر زیورک پہنچا تو وہ چھٹی پر تھا مگر جب میر اپیغام پہنچاتو وہ کہنے لگا کہ وہ بے شک آجائیں میں نے انہیں بہر حال دیکھنا ہے۔چنانچہ چھٹی کے باوجو د وہ دیکھنے کے لئے آگیا حالانکہ اُس کی سیکرٹری اُس وقت رخصت پر تھی اور وہ نہیں آئی۔میں جب نیورمبرگ (NUREMBERG) میں گیا تو چونکہ ڈاکٹر روسیو نے کہا تھا کہ کبھی کبھی اپنا معائنہ ڈاکٹروں سے کراتے رہا کریں اس لئے مجھے خیال آیا کہ یہاں بھی کسی کو دکھا لینا چاہئے۔وہاں آرلنگن یونیورسٹی کے اعصابی بیماریوں کے ایک بہت بڑے ماہر ڈاکٹر فلو گل ہیں ہم نے انہیں فون کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ بارہ بجے آجائیں میں اس سے پہلے ایک اور بیمار کو دیکھنے کے لئے جارہا ہوں۔ہم بارہ بجنے سے کچھ دیر پہلے وہاں پہنچ گئے۔ڈاکٹر فلو گل اس وقت 135 میل دور کسی مقام پر گئے ہوئے تھے۔ہم نے دیکھا کہ بمبارڈ منٹ سے وہ یونیورسٹی اِس طرح تباہ ہو چکی تھی کہ اُس میں کمرہ کمرہ کے برابر گڑھے پڑے ہوئے تھے اور دیواروں میں بھی بڑے بڑے خلا تھے۔جب ہم اندر گئے