انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 148

انوار العلوم جلد 25 148 سفر یورپ سے واپسی پر کراچی میں خطار کوئی وجہ نہیں دیکھتا کہ آپ نارمل حالت میں اور چالیس سال کیوں کام نہیں کر سکتے۔اُن کی یہ بات مجھے اچھی نہ لگی اور میں نے سمجھا کہ یہ خدائی میں دخل دینے والی بات ہے۔اب واپسی پر پھر ایک دفعہ میں اُن کے پاس گیا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور کہنے لگے I want to tell you something be optimistic, be optimistic۔ایک انگریز ڈاکٹر سر چارلس سائمنڈ تھا اسے لندن میں دکھایا گیا تو اس نے کہہ دیا کہ یہ دراصل معدی آرٹری (ARETRY) کا تھر مبوسس (THROMBOSIS) تھا۔اس سے بڑی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور ڈاکٹر روسیو کو فون کیا گیا اس نے سن کر بڑے جوش سے کہا کہ میں حیران ہوں ڈاکٹر سائمنڈ نے یہ رائے کس طرح دے دی ہے۔میں نے خود اس آرٹری کا معائنہ کیا تھا اور وہ بالکل ٹھیک چل رہی تھی۔چنانچہ آتی دفعہ میں پھر ڈاکٹر روسیو کے پاس گیا تو اس نے اپنی کاپی نکالی اور اس کے صفحات الٹ کر دکھایا کہ دیکھئے میں نے اُس وقت اپنی کاپی میں نوٹ کر لیا تھا کہ یہ آرٹری میں نے دیکھی ہے اور بالکل ٹھیک ہے اس میں کسی قسم کا نقص نہیں۔بلکہ اس نے کہا کہ سب سے پہلے ہم اس آرٹری کا معائنہ کیا کرتے ہیں اس لئے ڈاکٹر چارلس سائمنڈ نے جو رائے دی ہے وہ قطعاً غلط ہے۔اس طرح لندن میں ڈاکٹر رسل برین کو دکھایا گیا جو شاہی خاندان کا بھی ڈاکٹر ہے۔لاہور کے ڈاکٹروں نے مجھے کہا تھا کہ آپ اُسے ضرور دکھائیں۔گو اُس کے پاس خطابات نہیں ہیں مگر بہت ہوشیار ڈاکٹر ہے۔اسے ہم نے بتایا نہیں کہ چارلس سائمنڈ نے کیا رائے دی تھی مگر اس نے بھی یہی کہا کہ یہ آرٹری بالکل ٹھیک چل رہی ہے۔پھر زیورک میں واپسی پر ڈاکٹر کرائین بل (KRAYEN BULL) نے بھی میرا معائنہ کیا۔اُس نے پشت کی طرف کھڑے ہو کر جب آرٹری کی حرکت کو محسوس کیا تو مرزا منور احمد نے مجھے بتایا کہ یورپین طریق کے مطابق وہ کندھا مار کر مسکرایا اور کہنے لگا سر چارلس سائمنڈ نہایت قابل آدمی ہیں مگر میں حیران ہوں کہ انہوں نے یہ رائے کس طرح دی ہے۔اس بیماری کی صرف یہی ایک علامت نہیں بلکہ اور بھی بہت سی علامات ہوتی ہیں جو ان میں نہیں پائی جاتیں۔ڈاکٹر روسیو نے بھی یہی کہا کہ ایسے مریض میں