انوارالعلوم (جلد 25) — Page 149
انوار العلوم جلد 25 149 سفر یورپ سے واپسی پر کراچی میں خطاب بعض اور بھی علامتیں پائی جاتی ہیں جو آپ میں موجود نہیں۔بہر حال اُن کی رائے یہ تھی کہ عام حالات میں اب یہ بیماری زندگی کے لئے خطرناک نہیں ہے مگر اس کے لئے سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورا آرام کیا جائے اور فکر اور تشویش کو اپنے قریب نہ آنے دیا جائے۔ڈاکٹر چارلس سائمنڈ نے تو یہ کہا تھا کہ آپ چلیں پھریں بھی کم اور اگر کچھ دیر چلیں تو فوراً دو گھنٹہ کے لئے لیٹ جائیں مگر اور سب ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ بے شک چلیں پھریں اور کام بھی کریں لیکن ایک حد تک، اور یہ مد نظر رہے کہ تھکان نہ ہو۔پس ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت چلنا پھر نامیر اعلاج ہے مگر ہمارے ملک میں عام طور پر جب لوگ کسی کو چلتا پھرتا دیکھتے ہیں تو خیال کر لیتے ہیں کہ اب وہ پوری طرح تندرست ہو گیا ہے اب ہمیں اس سے کام لینا چاہیئے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ بیماری کا علاج کیا جا رہا ہے اور اگر چلیں پھریں گے نہیں تو بیماری بڑھے گی۔بلکہ وہ چلتے پھرتے دیکھ کر فوراً ملاقات کے لئے آجائیں گے۔ایسے موقع پر اگر انکار کر دیا جائے تو دوستوں کو تکلیف ہوتی ہے اور میری طبیعت بھی ایسی ہے کہ دوسروں کے خیال سے میں بسا اوقات اپنے نفس پر بوجھ برداشت کر لیتا ہوں جو بعد میں میرے لئے تکلیف کا موجب ہو جاتا ہے۔پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ دوستوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھا دیں کہ ہمارے ملک میں بعض چیزیں تندرستی کی علامت سمجھی جاتی ہیں حالانکہ وہ تندرستی کی علامت نہیں بلکہ مرض کو کم کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں اس لئے چلتے پھرتے دیکھ کر انہیں مجھ پر زیادہ بوجھ ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔میں نے ڈاکٹروں سے یہ بھی پوچھا کہ میرے لئے کیسی آب و ہوا مفید ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے لئے ایسی جگہ مفید ہے جہاں نہ زیادہ ٹھنڈک ہو اور نہ زیادہ گرمی گویا معتدل آب و ہوا ہو۔میں جب قادیان میں تھا تو صحت کی بحالی کے لئے عموماً ڈلہوزی چلا جایا کرتا تھا۔اُس وقت بھی بعض لوگ اعتراض کر دیا کرتے تھے اور میرے کانوں میں اس قسم کی آوازیں آیا کرتی تھیں کہ سیر کے لئے وہاں چلے جاتے ہیں۔وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ انہیں نہ تو اتنا کام کرنا پڑتا ہے جتنا مجھے کام کرنا پڑتا ہے اور نہ ان کی صحت اتنی کمزور ہے جتنی میری کمزور ہے۔وہ بجائے