انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 147

انوار العلوم جلد 25 147 سفر یورپ سے واپسی پر کراچی میں خطار اور زیادہ بوجھ اپنے آپ پر نہ ڈالیں۔میں جب زیورک سے لندن گیا تو وہاں میں نے اپنے ماموں زاد بھائی سید محمود احمد سے کہا کہ تم میوزیم میں جاؤ اور کتابیں دیکھ کر معلوم کرو کہ ڈاکٹر پیسٹیور (PASTEUR) کب پیدا ہوا تھا اور کب فوت ہوا اور کس عمر میں اُس پر فالج کا حملہ ہوا تھا؟ اُس نے کتابیں دیکھیں تو معلوم ہوا کہ 1812ء میں وہ پیدا ہوا تھا اور 1895ء میں 83 سال کی عمر میں فوت ہوا اور 56 سال کی عمر میں اس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔گویا فالج کے حملہ کے بعد وہ 27 سال زندہ رہا۔واپسی پر زیورک میں ڈاکٹر روسیو سے میں نے اس کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس کا پوتا میرا دوست تھا اور اس نے مجھے کہا تھا کہ بیماری کے بعد وہ تیس سال زندہ رہا۔ممکن ہے اس بارہ میں میری یاد داشت کی غلطی ہو اور اُس نے ستائیس سال کہا ہو اور مجھے تیس سال یا درہا ہو۔بہر حال وہ بیماری کے بعد ایک لمبے عرصے تک زندہ رہا اور اُس نے جتنی ایجادات کیں وہ سب کی سب اسی عمر میں کی ہیں۔پھر میں نے انسائیکلو پیڈیا دیکھی تو اُس میں سے بھی یہ نکل آیا کہ اس نے جتنی ایجادیں کی ہیں سب فالج کے حملہ کے بعد ہی کی ہیں۔پس اس نے کہا کہ آپ بے شک کام کریں لیکن فکر اور تشویش کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔اس کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ کمزوری بھی جاتی رہے گی اور جسم میں پوری طرح طاقت آجائے گی۔چلتے وقت بھی اس نے یہی کہا کہ جہاں تک بیماری کا حملہ تھا وہ جاتا رہا اب صرف کمزوری پائی جاتی ہے جو آہستہ آہستہ دور ہو جائے گی۔مگر اصل چیز جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ کام بے شک کریں لیکن ایک نارمل آدمی کے نارمل کام کا زیادہ سے زیادہ سو فیصدی کر لیں اس سے زیادہ نہیں۔ایک اور ڈاکٹر کر ائین بل (KRAYEN BULL) جو زیورک کے بڑے ہسپتال کے ماہر نیورولجسٹ (NEUROLOGIST) ہیں اور بوسٹن امریکہ میں لیکچر دینے جایا کرتے ہیں انہوں نے میرا معائنہ کیا تو انہوں نے بھی کہا کہ آپ کو کوئی بیماری نہیں۔بلکہ انہوں نے ایک فقرہ ایسا کہہ دیا جو مجھ پر گراں گزرا اور میں نے سمجھا کہ یہ تو خدائی کا دعویٰ کرنے والی بات ہے۔انہوں نے میرا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ میں تو