انوارالعلوم (جلد 25) — Page 117
انوار العلوم جلد 25 117 احباب جماعت کے نام پیغامات خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا اور چاہا کہ مسلمان پھر ان کے ذریعہ متحد ہو سو جائیں۔مجھے حال ہی میں ایک رپورٹ ملی ہے کہ برہمن بڑیہ کے دولت احمد خاں صاحب اور ڈھاکہ کے شاہجہان صاحب چند دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس خیال کو ہوا دے رہے ہیں کہ چونکہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے اس لئے اس کی اطاعت لازمی حکم کا درجہ نہیں رکھتی۔اگر یہ صحیح ہے تو پھر یہ بھی صحیح ہے کہ صوبائی امیر محمد صاحب ڈھاکہ کے شاہجہان صاحب اور برہمن بڑیہ کے دولت احمد صاحب بھی غلطی کر سکتے ہیں۔برادران! جب صورت یہ ہے کہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے، صوبائی امیر غلطی کر سکتا ہے، شاہجہان صاحب غلطی کر سکتے ہیں، دولت احمد صاحب غلطی کر سکتے ہیں تو پھر اس صورت میں خلیفہ کی آواز کو لازمی طور پر فوقیت دینی پڑے گی۔کیونکہ وہی ایک ایسا شخص ہے کہ جسے ساری جماعت منتخب کرتی ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ یہ مذکورہ بالا حضرات ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ چونکہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے اس لئے وہ جماعت کے افراد سے یہ توقع نہیں رکھ سکتا کہ وہ اس کے احکام کی تعمیل کریں۔لیکن دوسری طرف وہ یہ سمجھتے ہیں ہر چند کہ وہ خود بھی غلطی کر سکتے ہیں تاہم اُن کی رائے خلیفہ اور اُس کے مشیروں پر فائق سمجھی جانی چاہیئے۔اس لئے ان کے اپنے خیال میں انہیں اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ خلیفہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں کہ چونکہ وہ غلطی کر سکتا ہے اس لئے اسے جماعت سے اطاعت کی توقع رکھنے کا حق حاصل نہیں۔اور یہ کہ جہاں تک اطاعت کی توقع رکھنے کا سوال ہے یہ صرف بنگال کے صوبائی امیر کا حق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔یاد رکھو! کہ یہ لوگ تمہارے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں اور تمہیں صدیوں تک کے لئے اُسی طرح تباہ کرنا چاہتے ہیں جس طرح کہ ماضی میں مسلمان تباہی سے دوچار ہوئے۔مذکورہ بالا خیال اگر چہ بظاہر معمولی نظر آتا ہے لیکن یہی خیال تھا جو گزشتہ زمانہ میں بالآخر مسلمانوں کی تباہی کا باعث بنا۔بظاہر سادہ نظر آنے والے یہی اصول تمہاری